تنسکیا17اکتوبر: آسام کے تن سکھیا کے کاکوپتھر میں گولی باری اور گرینیڈ کی آوازیں سنی گئیں۔جس سے عوام میں خوف کا ماحول ہے۔ بیتی شب یہ واقعہ پیش آیا۔ واقعہ کاکوپتھر آرمی کیمپ کے قریب پیش آیا جہاں فائرنگ کا تبادلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ آدھی رات کے قریب فوج کے 19 گرینیڈیئرز یونٹ کے کیمپ پر دستی بم پھینکے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے میں تین فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوج اور پولیس نے علاقے کا محاصرہ کرلیا اور شہریوں کی نقل و حرکت محدود کردی گئی ۔ زخمی فوجی جوانوں کو تن سوکھیا کے مشنری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ۔جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ فوج کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ حملہ آوروں نے کیمپ کے گیٹ پر دستی بم پھینکے لیکن چوکس فوجیوں نے فوراً جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم ٹرک کی بازیابی سے ان کی شناخت میں آسانی ہوگی۔ آسام کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اوگالا کالیت کا کہنا ہے کہ مشترکہ آپریشن جاری ہے۔ مقامی لوگوں سے گزارش ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔ حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں کےذریعہ استعمال کیا گیاایک ٹرک ، اروناچل پردیش کے ٹینگاپانی علاقے سےبرآمد کیا گیاہے۔ گاڑی میں دستی بم کی باقیات اور اسلحے کے نشانات ملے ہیں جو تحقیقات کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، لیکن خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (انڈیپنڈنٹ) یا (I)ULFA کا ہاتھ اس کے پیچھے ہوسکتا ہے۔