نئی دہلی 12اکتوبر: ہند۔افغانستان کی نزدیکیاں پاکستان کوایک آنکھ نہیں بھارہی ہیں ۔افغانستان کےکارگزاروزیرخارجہ امیر متقی ان دنوں بھارت کے دورے پرہیں۔ان کے دورے کے دوران ہند۔افغانستان نے مشترکہ بیان جاری کیا ۔ مشترکہ اعلامیے میں افغانستان نے جموں کشمیر کوبھارت کا حصہ تسلیم کیاہے۔جس پر پاکستان بھڑک گیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے سفیر کودفترخارجہ طلب کیا اور باضابطہ احتجاج درج کرایا۔ پاکستان نے جموں کشمیر کوہندوستان کا حصہ ظاہر کرنے کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قراردیا ہے۔ افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے وزیر خارجہ امیر خان متقی بھارت دورے پر ہیں۔انھوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس سے پاکستان میں تشویش پائی جاتی ہے۔مشترکہ بیان میں 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی گئی۔ اس میں جموں کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت بھی تحریرتھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان بھی جموں کشمیر کو ہندوستان کا حصہ مانتا ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایڈیشنل سکریٹری خارجہ (مغربی ایشیا اور افغانستان) نے افغان سفیر کو مشترکہ بیان میں جموں کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے ’سخت اعتراضات‘ سے واقف کیا ۔ دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ جموں کشمیر کو ہندوستان کا حصہ قرار دینا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔