نئی دہلی 11اکتوبر:افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ نئی دہلی میں افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کا نہ ہونا ’’غیر ارادی‘‘ (Unintentional) عمل تھا، اور اسے طالبان کی کسی پالیسی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ شاہین نے کہا کہ ’’خواتین کے خلاف کسی امتیازی پالیسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پریس پاسز کی تعداد محدود تھی، کچھ لوگوں کو ملے اور کچھ کو نہیں۔ یہ ایک تکنیکی مسئلہ تھا، پالیسی نہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے پر خود افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے بات کریں گے۔شاہین کے مطابق، ’’امیر خان متقی کابل میں اپنے دفتر میں باقاعدگی سے خواتین صحافیوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ میں خود بھی خواتین صحافیوں کو انٹرویو دیتا ہوں۔ یہ کہنا غلط ہے کہ انہیں جان بوجھ کر بریفنگ سے خارج کیا گیا۔ کئی مرد صحافیوں کو بھی پاس نہیں مل سکا۔‘‘انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ جب طالبان نمائندے بھارت کا دورہ کریں گے تو خواتین صحافیوں کو بھی پریس کانفرنسوں میں شامل کیا جائے گا، بشرطیکہ میڈیا ادارے پہلے سے رابطہ رکھیں تاکہ اس طرح کے مسائل پیدا نہ ہوں۔گزشتہ روز (جمعہ) نئی دہلی میں طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کی عدم موجودگی نے ایک تنازع کھڑا کر دیا تھا۔ بھارتی میڈیا کی متعدد خاتون صحافیوں نے سوشل میڈیا پر شکایت کی کہ انہیں پریس کانفرنس میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ انہوں نے ڈریس کوڈ کی مکمل پابندی کی تھی۔









