کولکاتا 9اکتوبر: بہار میں ایس آئی آر کی تکمیل کے بعد اب مغربی بنگال میں ایس آئی آر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ لیکن مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کے افسران کو احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن کی ایک ٹیم کو مغربی بنگال کے مشرقی مدناپور میں عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ٹیم مشرقی مدناپور کے کولاگھاٹ کے دورے پر گئی تھی۔ اس دوران سناتنی برہمن سماج نے ایس آئی آر (خصوصی گہری نظرثانی) کے معاملہ پر الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کیا۔ اس معاملے میں سناتنی برہمن سماج نے کہا کہ ہم آج الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے جا رہے ایس آئی آر کو قبول نہیں کر سکتے، کیونکہ کئی لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جا رہے ہیں۔ اس سماج کے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو ’’حقیقی ہندوستانی شہری ہیں، ان کے نام بطور ووٹر درج نہیں ہو پا رہے۔ ہم بطور ہندوستانی شہری اس عمل کو قبول نہیں کریں گے۔ ہم ایس آئی آر کو نہیں مانتے۔‘‘ کچھ لوگوں نے بتایا کہ کل بی جے پی لیڈر شوبیندو ادھیکاری نے مطالبہ کیا تھا کہ ووٹر لسٹ سے صرف 4 قسم کے نام ہٹائے جائیں۔
مردہ ووٹرز، دوہری یا تہری انٹری والے نام، جعلی ووٹرز اور غیر قانونی دراندازوں کے نام (خصوصاً روہنگیا اور بنگلہ دیشی مسلم دراندازوں کے نام)۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کے نتیجے میں کسی بھی ہندوستانی شہری کو، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا برادری سے تعلق رکھتا ہو، فہرست سے نہیں ہٹایا جائے گا۔









