نئی دہلی 9اکتوبر: کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ ردعمل پر شدید تنقید کی ہے، جس میں انہوں نے غزہ میں ہونے والے تازہ واقعات کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی بلاشرط تعریف کی تھی۔ جے رام رمیش نے کہا، ’’وزیراعظم کا غزہ کے حوالے سے نئے حالات کا خیرمقدم کرنا اور صدر ٹرمپ کی تعریف کرنا قابل حیرت نہیں لیکن اصل میں جو چونکانے والا، شرمناک اور اخلاقی طور پر غیر مناسب عمل ہے، وہ نیتن یاہو کی بلاشرط تعریف ہے، جنہوں نے گزشتہ 20 مہینوں سے غزہ میں نسل کشی انجام دی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم مودی نے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے مستقبل پر مکمل خاموشی اختیار کی ہے، جسے ہندوستان نے نومبر 1988 میں تسلیم کیا تھا اور آج دنیا کے 150 سے زائد ممالک بھی تسلیم کر چکے ہیں۔ یہ ریاست فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی علامت ہے، جس پر موجودہ حکومت ہند کی خاموشی تشویشناک ہے۔ جے رام رمیش نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے مسلسل پھیلاؤ کے حوالے سے بھی وزیراعظم کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق، یہ بستیوں کا بڑھتا ہوا جال فلسطینی زمین اور حقوق کو متاثر کر رہا ہے لیکن حکومت ہند نے اس پر کوئی موقف ظاہر نہیں کیا۔ کانگریس رہنما نے زور دیا کہ عالمی سطح پر امن قائم رکھنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہندوستان کا موقف متوازن اور اصولی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں نہ صرف فلسطینی عوام کی مشکلات کو تسلیم کرنا چاہیے بلکہ اسرائیل کی بلاشرط حمایت کے بجائے انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔‘‘ جے رام رمیش نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی ریاست کے حق خود ارادیت، انسانی حقوق اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے غیر قانونی اقدامات کے حوالے سے واضح موقف اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ اور پالیسی کا تقاضا ہے کہ وہ عالمی برادری میں انصاف اور امن کے لیے اصولی موقف رکھے۔









