پٹنہ 8اکتوبر:بہار کے ضلع روہتاس اور اورنگ آباد کے درمیان قومی شاہراہ 19 (NH-19) پر 65 کلومیٹر طویل ٹریفک جام نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا ہے۔ یہ شاہراہ، جو دہلی سے کولکتہ کو جوڑتی ہے اور ملک کے سب سے اہم تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، گزشتہ چار دنوں سے مکمل طور پر بند ہے۔ درجنوں کلومیٹر تک لاریوں، بسوں، کاروں اور موٹر سائیکلوں کی قطاریں جمی ہوئی ہیں، جبکہ گاڑیاں رینگنے کی رفتار سے بمشکل چند میٹر آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس بحران کی بنیادی وجہ گزشتہ جمعہ کو ضلع روہتاس میں ہونے والی طوفانی بارشں ہے۔ بارش کے پانی نے شاہراہ کے ساتھ موجود سروس لین اور عارضی متبادل راستوں کو سیلابی نالوں میں تبدیل کر دیا۔ یہ عارضی راستے دراصل ایک ہائی وے توسیعی منصوبے کے دوران بنائے گئے تھے تاکہ گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہے، مگر بارش کے بعد ان میں اتنا پانی بھر گیا کہ وہ ناقابلِ استعمال ہوگئے۔ پانی جمع ہونے اور سڑکوں میں بننے والے بڑے گڑھوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ کئی گاڑیاں پھسل کر بند ہو گئیں، جس کے نتیجے میں پورا ٹریفک نظام جام ہوگیا اور ہزاروں لوگ سڑک پر پھنس کر رہ گئے۔ چشم دید افراد کے مطابق، بعض ڈرائیورز نے بتایا کہ وہ 24 گھنٹے میں بمشکل 5 کلومیٹر آگے بڑھے۔ ایک ٹرک ڈرائیور پروین سنگھ نے روزنامہ جاگرن سے بات کرتے ہوئے کہا :
’’ہم نے 30 گھنٹے میں صرف 7 کلومیٹر کا سفر کیا ہے۔ ٹول ٹیکس اور روڈ ٹیکس دینے کے باوجود کوئی ریلیف نہیں ملا۔‘‘ ایک اور ڈرائیور نے بتایا کہ وہ دو دن سے اپنی گاڑی میں پھنسے ہیں، نہ کھانے کا انتظام ہے نہ پانی کا۔ یہاں تک کہ پیدل چلنے والے بھی گھنٹوں کی جدوجہد کے بغیر چند میٹر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی تکلیف کا باعث ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔ درجنوں ٹرک جن میں خراب ہونے والی اشیاء جیسے سبزیاں، دودھ، اور خام مال موجود ہے، وہ بربادی کے دہانے پر ہیں۔ ہزاروں روپے کا نقصان روزانہ کی بنیاد پر ہو رہا ہے، جبکہ ایمرجنسی سروسز خصوصاً ایمبولینسز بھی اس جام میں پھنس گئی ہیں۔
اشتہار
مقامی شہریوں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اب تک کوئی مؤثر اقدام سامنے نہیں آیا۔ نہ تو پانی نکالنے کا کام شروع ہوا اور نہ ہی متبادل راستوں کی بحالی پر کوئی پیش رفت ہوئی۔
اس بحران میں سب سے زیادہ تنقید NHAI کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رنجیت ورما پر ہو رہی ہے، جنہوں نے میڈیا کے سوالات کے جواب دینے سے بھی انکار کر دیا۔ اس خاموشی نے عوام میں یہ تاثر مزید گہرا کر دیا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ دونوں اس ہنگامی صورتحال سے غافل ہیں۔
پس منظر**:**
اشتہار
قومی شاہراہ 19 (NH-19) جسے پہلے گیا-سراکھسی روڈ یا جی ٹی روڈ کا حصہ کہا جاتا تھا ، بھارت کے شمالی حصے کو مشرق سے جوڑنے والا سب سے اہم شاہراہ نیٹ ورک ہے۔ بہار، جھارکھنڈ اور اتر پردیش کے بڑے شہروں سے گزرنے والی یہ سڑک ملک کی اقتصادی شہ رگ کہلاتی ہے۔
تاہم، حالیہ برسوں میں NHAI کی جانب سے جاری ہائی وے توسیعی منصوبہ بارش کے موسم میں بار بار رکاوٹوں کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ کام کے دوران بنائے گئے عارضی راستے اکثر غیر معیاری اور غیر منظم ہوتے ہیں۔ موجودہ بحران نے ایک بار پھر بھارت میں بنیادی ڈھانچے کے ناقص انتظام کو بے نقاب کر دیا ہے۔
اشتہار
Whatsapp
Facebook
Telegram
Twitter
نیوز18اردو ہندوستان میں اردو کی سب سے بڑی نیوز ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ برائے مہربانی ہمارے واٹس چینل کو لائیو، تازہ ترین خبروں اور ویڈیوز کے لئے فالو کریں۔آپ ہماری ویب سائٹ پر خبروں، تصاویر اور خیالات کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ، کرکٹ جیسے کھیلوں اور لائف اسٹائل سے منسلک مواد دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ہمیں، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز،شیئرچیٹ، ڈیلی ہنٹ جیسے ایپس پر بھی فالوکرسکتے ہیں۔
Tags: Bihar , kolkatta
First Published : October 8, 2025, 3:26 pm IST









