نئی دہلی 6اکتوبر: امریکی فوج اپنی نئی ’گروومنگ پالیسی‘ کے سبب تنازعات کا سامنا کر رہی ہے۔ نئے ضابطہ کے تحت فوجیوں کے اب داڑھی اور لمبے بال رکھنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مذہبی رعایت ختم کر دیے جانے کی وجہ سے سِکھ، مسلم اور آرتھوڈوکس یہودی فوجیوں کو اپنے دین اور فوجی خدمت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ کئی لوگ اس فیصلے کو امریکی اقدار کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ یہ تنازعہ اُس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیجسیتھ نے داڑھی رکھنے والے فوجیوں کو’بیئرڈوز‘ اور ’موٹے جنرل‘ کہہ کر مذاق اُڑایا۔ ان کے اس بیان کی شدید مذمت کی جا رہی ہے اور اسے بے حرمتی و امتیازی سلوک قرار دیا جا رہا ہے۔ داڑھی اور پگڑی پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد ہندوستان میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کے لیڈران نے امریکہ کی نئی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ’شرومنی گردوارہ پر بندھک کمیٹی‘ (ایس جی پی سی) کے ترجمان گرچرل گریوال نے نے امریکی فیصلہ پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سکھوں یا پنجابی برادری کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی جب پگڑی اُتروائی گئی اور سکھوں کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں تو اُن کی بے حرمتی ہوئی تھی۔ یہ نہ تو جمہوری ہے اور نہ ہی درست۔ انہوں نے بتایا کہ ایس جی پی سی امریکہ کے گردواروں کے ساتھ مل کر اس معاملے کی تفصیلات حاصل کرے گی اور آئندہ کے لیے لائحۂ عمل طے کرے گی۔ قابل ذکر ہے کہ سکھ مذہب کے 5 ’ککار‘ (کیش، کچھی، کنگھا، کرپان اور کڑا) مذہبی عقیدے کے لازمی حصے ہیں۔ کسی بھی حکم یا ضابطے کے ذریعہ ان پر پابندی لگانا سکھ مذہب کے اصولوں اور جذبات کے منافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایس جی پی سی اور پنجاب کے لیڈران اس فیصلے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔









