(بھوپال، 6 ،اکتوبر، : مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، کیمپس بھوپال کے کالج آف ٹیچر ایجوکیشن میں دیہی تعلیم اور معاشرتی شراکت داری کے عنوان پر توسیعی خطبہ کا کامیاب انعقاد کیا گیا- واضح رہے کہ اس خطبہ کا مقصد اساتذہ اور طلبا میں دیہی تعلیم کے تئیں مثبت سوچ پیدا کرنا اور انہیں دیہی تعلیم کے عمل میں فعال شراکت داری کے لئے آمادہ کرنا تھا- مہمان خطیب محترمہ شرمشٹھا گانگولی نے خطبہ کا آغاز سوال و جواب کے ذریعہ سے کیا- دوران خطبہ، محترمہ شرمشٹھا نے کہا کہ سماج میں موجود تمام تر تفاوت کا حل تعلیم ہے- تعلیم ہی واحد ایک آلہ ہے جس کے ذریعہ سے دیہی اور شہری علاقوں سے منسلک تفریق کو کم کیا جا سکتا ہے- انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں یا عمومی طور پر تعلیم طلبا کے سماجی و اقتصادی پس منظر سے منسلک ہو اور تعلیمی عمل طلبا کی سماجی صورت حال سے وابستگی پر محیط ہو- سوال و جواب کے دوران، محترمہ شرمشٹھا نے کہا کہ والدین ، اسکول اور اساتذہ طلبا کی تعلیمی زندگی پر بہت اثر انداز ہوتے ہیں-
اس لئے انہیں چاہیے کہ وہ طلبا کو ان کی بنیادی ضروریات، لسانی و ذہنی صلاحیت اور سماجی صورتحال کے سائے میں تعلیمی عمل کو فروغ دیں- اس کے علاوہ ،میسلو کی نفسیاتی ضروریات کے نظریے کی روشنی میں طلبا کی مختلف ضروریات کو مثالوں کے ذریعہ وضاحت پیش کی- خطبہ کے آخر مرحلہ میں انہوں نے معاشرہ، اساتذہ ، حکومت، این-جی-او اور دیگر ذمہ داران کو دیہی تعلیم کے حوالے سے اپنے فرائض کو سنجیدگی کے ساتھ انجام دینے پر زور دیا- واضح رہے کہ اس توسیعی خطبہ کی صدارت کے فرائض مانو-کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، بھوپال کے پرنسپل پروفیسر نو شاد حسین نے انجام دیا- ڈاکٹر پروینی پنداگلے نے بحسن خوبی نظامت کے فرائض کو انجام دیا- خطبہ کے آخر میں ڈاکٹر شبانہ اشرف نے مہمان خطیب، اساتذہ اور طلبا کا شکریہ ادا کیا-









