نئی دہلی 29ستمبر:آپریشن سندور کے تجربے کے بعد ہندوستان نے میڈ اِن انڈیا ہتھیاروں پر جم کر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہندوستان فوج کی ویسٹرن کمانڈ کی ایک بڑی ڈرون مشق میں ہندوستان فوج نے اپنی نئی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ یہ ڈرون مشق ہریانہ کے امبالہ میں ہوئی۔ ویسٹرن کمانڈ کے آرمی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار نے بتایا کہ فوج نے پانچ کلومیٹر تک رینج والے ٹیکٹیکل ڈرون کا ڈیمو کیا۔ سیکڑوں ڈرون آسمان میں اُڑے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ۔
انہوں نے واضح کیا کہ ڈرون اب ہمارے آپریشن کا اہم حصہ بن چکے ہیں اور ہم نے آپریشن سندور میں بھی کاؤنٹر ڈرون کی مدد سے دشمن کے کئی ڈرون ناکارہ کیے تھے۔ جنرل کٹیار نے یہ بھی کہا کہ اگلی جنگ میں ہمیں ہزاروں ڈرون درکار ہوں گے، لہٰذا فوج مقامی صنعت کے ساتھ مل کر انہیں تیار کروانا چاہتی ہے۔ ڈرون صرف لڑائی کے لیے نہیں ہیں، بلکہ زراعت جیسے سویلین استعمال اور خواتین کی تربیت کے لیے بھی ان کا استعمال بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جوانوں کو ڈرون آپریشن اور کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی کی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ہر چیلنج کا مقابلہ خود کفیل انداز میں کیا جا سکے۔









