نئی دہلی23ستمبر: بے گھر کشمیری ہندوؤں کے لیے گروپ سی اور ڈی کی ملازمت میں رعایت دینے والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ دراصل مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں بھرتی کے لیے عمر میں کچھ چھوٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس معاملہ پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے عرضی گزار سے پوچھا کہ ہمیں اس میں مداخلت کیوں کرنی چاہیے؟ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ یہ ایک پالیسی پر مبنی معاملہ ہے۔ بے گھر کشمیری ہندوؤں کی ایک تنظیم ’پنون کشمیر ٹرسٹ‘ کی جانب سے یہ عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ سکھ مخالف فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات کے متاثرین کو جس طرح کی چھوٹ دی گئی تھی، اسی طرح کی چھوٹ بے گھر کشمیری ہندوؤں کو بھی دی جانی چاہیے۔ واضح ہو کہ پنون کشمیر نے سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) داخل کی تھی۔ یہ عرضی ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت داخل کی گئی تھی۔ عرضی میں بے گھر کشمیری ہندوؤں کے لیے گروپ سی اور ڈی کے تحت آنے والی مرکزی حکومت کی ملازمت کی بھرتیوں میں عمر کی حد میں چھوٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عرضی میں کہا گیا تھا کہ 1984 کے سکھ مخالف فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات کے متاثرین کو ایسی رعایتیں دی گئی ہیں۔ لیکن بے گھر کشمیری ہندوؤں کو اس طرح کی کوئی بھی رعایت نہیں ملی۔ عرضی میں اس بات کا بھی تذکرہ کیا گیا کہ 1990 میں وادی میں نسل کشی اور جبراً منتقلی کے سبب بہت سے کشمیری نظر انداز کیے گئے۔ ایسے میں پسماندہ کشمیری ہندوؤں کو اب تک اس طرح کے مثبت اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں مل سکا اور اس سے محروم رہے۔ عرضی میں مذکور ہے کہ کشمیری ہندوؤں کو جنوری 1990 میں اپنی آبائی زمین سے بھاگنے کے لیے مجبور کیا گیا تھا۔ اس وجہ سے گزشتہ 3 دہائیوں سے زیادہ وقت تک ان کے بنیادی حقوق پامال ہوئے ہیں۔