نئی دہلی 30اگست : جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں دفتر جمعیۃ علماء ہند میں منعقد ہوا، اجلاس کے شرکاء نے ملک کی موجودہ صورتحال پر غور و خوض کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، شدت پسندی، امن و قانون کی ابتری، اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک، عبادت گاہ ایکٹ کے باوجود مدارس و مساجد کے خلاف فرقہ پرستوں کی جاری مہم اور خاص طور پر آسام میں جاری انخلا اور پچاس ہزار سے زائد مسلم خاندانوں کو صرف مذہب کی بنیاد پر بلڈوز کرنے کی کارروائی پر اور فلسطین میں اسرائیل کی جارحانہ دہشت گردی پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا، اور ان جیسے بہت سارے مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے ملک کے موجودہ سیاسی اورسماجی حالات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ایک دو مسائل ہوں تو انہیں بیان کیا جائے، یہاں تو مسائل کا ایک انبار ہے، ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا پیدا کر دیا جاتا ہے، ایک تنازعہ ٹھنڈا نہیں ہوتا کہ دوسرا تنازعہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر چہار جانب سے مسلمانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور یہ سب کچھ منصوبہ بند طریقہ سے ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندو مسلمان کرنے کے علاوہ حکومت اور فرقہ پرستوں کے پاس کوئی دوسرا ایشو ہی نہیں رہ گیا، اس وقت ملک کے حالات جس قدر تشویشناک ہیں اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی، اقتدارکی تبدیلی کے بعد یکے بعد دیگرے جو واقعات پیش آ رہے ہیں اس سے اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ ہندوستان فسطائیت کی گرفت میں چلا گیا ہے، فرقہ پرست اور انتشار پسند قوتوں کا بول بالا ہو گیا ہے۔