بھوپال، 29 اگست:کالج آف ٹیچر ایجوکیشن، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں 29 اگست کو قومی یوم کھیل کے موقع پر ایک شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں میں کھیلوں کے بارے میں آگاہی بڑھانا اور جسمانی فٹنس کی اہمیت کو سمجھانا تھا۔ پروگرام میں طلبہ، اساتذہ اور کھیل کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے حصہ لیا۔پروگرام کا آغاز کالج کے پرنسپل پروفیسر نوشاد حسین نے کیا۔ انہوں نے بھارتی ہاکی کے جادوگر میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا، “میجر دھیان چند نہ صرف بھارتی ہاکی کی تاریخ کا ایک اہم حصہ تھے، بلکہ انہوں نے کھیل کو ایک نئی سمت دی۔ ان کی خدمات کو ہم کبھی نہیں بھول سکتے، اور ہمیں ان سے تحریک لے کر کھیل کے ذریعے ملک کی خدمت کرنی چاہیے۔
اس موقع پر مدھیہ پردیش کے کھیل کے ہنر مندوں کو عزت دی گئی، جن میں مدھیہ پردیش کے بہترین کھیل اعزاز کے فاتح، ورلڈمتر ایوارڈ یافتہ این آئی ایس ہاکی کوچ، جناب حبیب حسن کو ان کے کھیلوں میں شاندار کارکردگی اور لگن کے لئے کالج کی جانب سے اعزاز دیا گیا۔
پروگرام میں ایک خصوصی فٹنس ورکشاپ بھی منعقد کی گئی، جس میں صحت کے ماہرین اور فٹنس کوچز نے طلبہ کو جسمانی فٹنس کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کیں۔ ورکشاپ کا مقصد طلبہ کو یہ سمجھانا تھا کہ ایک صحت مند جسم ہی صحت مند دماغ کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس دوران طلبہ کو خوراک، ورزش اور ذہنی صحت کے بارے میں بھی مشورے دیے گئے۔
پروگرام کی صدارت کالج کی اسسٹنٹ پروفیسر محترمہ نیتی دتہ اور بین الاقوامی ہاکی ایمپائر جناب فہیم محمد خان نے کی۔ محترمہ نیتی دتہ نے کہا، “ہمارے طلبہ کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ کھیلوں کو صرف ایک مقابلے کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اسے ایک طرزِ زندگی کے طور پر اپنائیں۔” جناب فہیم محمد خان نے اپنے تجربات کو شیئر کرتے ہوئے طلبہ کو کھیلوں کے تئیں اپنی وابستگی کو مزید مضبوط کرنے کی ترغیب دی۔
اس کے علاوہ پروگرام میں ایک اسپورٹس کوئز کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ نے اپنے کھیلوں کے علم اور جسمانی صلاحیت کا شاندار مظاہرہ کیا۔ اس کوئز میں طلبہ نے کھیلوں سے متعلق مختلف سوالات کے جوابات دیے اور اپنی معلومات کو ثابت کیا۔ اس کوئز کے فاتحین کو کالج کی جانب سے انعامات اور سرٹیفیکیٹ دیے گئے۔ ان انعامات کے ذریعے طلبہ میں کھیلوں کے تئیں دلچسپی اور لگن کو فروغ دیا گیا۔پروگرام کے آخر میں ایک میراتھن دوڑ کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ نے بڑی جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ اس دوڑ میں طلبہ نے نہ صرف اپنی جسمانی صلاحیت کا امتحان لیا بلکہ صحت مند طرزِ زندگی کی طرف ایک قدم اور بڑھایا۔ میراتھن دوڑ میں بڑی تعداد میں طلبہ نے حصہ لیا اور دوڑ کو پورے جوش اور جذبے کے ساتھ مکمل کیا۔
یہ پروگرام نہ صرف کھیلوں کو فروغ دینے کی ایک کوشش تھی، بلکہ طلبہ کو یہ سکھانے کا بھی ایک موقع تھا کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں بہتری آ سکتی ہے۔ کالج نے اس پروگرام کے ذریعے کھیلوں اور فٹنس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ میں ایک مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے۔کالج آف ٹیچر ایجوکیشن کے اس پروگرام نے یہ واضح کر دیا کہ کھیل صرف جسمانی سرگرمیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ زندگی کے ہر پہلو پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ پروگرام ایک پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم اپنی فٹنس پر توجہ دیں گے تو نہ صرف ہم اپنے ذاتی زندگی میں بہتری لائیں گے بلکہ ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی طرف بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔