نئی دہلی، 26 اگست (یواین آئی) سپریم کورٹ نے سماعتوں کی تکمیل کے بعد ہائی کورٹس کی طرف سے فیصلے دینے میں تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے انتہائی حیران کن قرار دیا ہے۔ جسٹس سنجے کرول اور پرشانت کمار مشرا کی بنچ رویندر پرتاپ شاہی کی طرف سے 2008 سے زیر التواء ایک فوجداری معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کو چیلنج کرنے والی اپیلوں کی سماعت کر رہی تھی۔ اس اپیل پر سماعت 24 دسمبر 2021 کو مکمل ہوئی اور اسے احکامات کے لیے محفوظ کر لیا گیا، لیکن کوئی حکم سنایا نہیں گیا، اس طرح یہ معاملہ دوسرے بنچ کے سامنے رکھا گیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جلد نمٹانے کی بار بار درخواستوں کے باوجود ہائی کورٹ نے کوئی فیصلہ نہیں سنایا۔ بنچ نے کل کہاکہ ’’یہ انتہائی حیران کن ہے کہ اپیل کی سماعت کی تاریخ سے تقریباً ایک سال تک فیصلہ نہیں سنایا گیا‘‘۔ عدالت نے کہا کہ اسے بارہا ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد بھی مہینوں اور بعض معاملات میں سالوں تک فیصلے نہیں سنائے جاتے ہیں۔ انیل رائے بمقابلہ ریاست بہار میں اپنے پہلے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، عدالت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فیصلے کی بروقت فراہمی انصاف کی فراہمی کے نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ سپریم کورٹ نے تازہ ہدایات جاری کرتے ہوئے ہر ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو ماہانہ رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا جس میں ان مقدمات کی فہرست شامل ہو جس میں فیصلے محفوظ کر لیے گئے ہیں ۔
لیکن سنائے نہیں گئے۔ یہ رپورٹ متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو پیش کی جائے۔ اگر تین ماہ کے اندر فیصلہ نہیں سنایا جاتا ہے تو رجسٹرار جنرل کو معاملہ چیف جسٹس کے پاس بھیجنا ہوگا جو کہ دو ہفتوں میں فیصلہ سنانے کی ہدایت دیں گے۔ اگر کوئی بنچ اب بھی فیصلہ نہیں سناتی ہے تو معاملہ کسی اور بنچ کو سونپا جانا چاہئے۔ بنچ نے واضح کیاکہ “یہ ہدایات اس عدالت کے ذریعہ پہلے سے جاری کردہ ہدایات کے علاوہ ہیں اور اس کے حکم کو تعمیل کے لیے تمام ہائی کورٹس کو بھیجنے کی ہدایت دی۔









