حیدرآباد20 اگست (یو این آئی) ایشیا کپ 2025 کے لیے ٹیم انڈیا کے اعلان کردہ اسکواڈ میں محمد سراج کو شامل نہ کرنے پر نہ صرف حیدرآبادی کرکٹ شائقین بلکہ پورے ملک میں ان کے مداحوں کے درمیان مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شائقین اور ماہرینِ کرکٹ کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں تینوں فارمیٹس میں شاندار کارکردگی دکھانے والے محمد سراج کو اس بار نظر انداز کرنا انصاف کے مترادف نہیں۔کرکٹ ماہرین کے مطابق اگر حالیہ دورۂ انگلینڈ پر نظر ڈالی جائے تو سراج نے کمال کی گیند بازی کا مظاہرہ کیا۔ ٹسٹ سیریز میں انہوں نے شاندار لائن اور لینتھ کے ساتھ انگلش بلے بازوں کو بار بار مشکلات میں ڈالا اور ٹیم کے لیے اہم وکٹیں حاصل کیں۔ اس کارکردگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ سراج انڈیا کے سب سے مؤثر پیس بولروں میں شمار ہوتے ہیں۔دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں جسپریت بمراہ بھی موجود تھے، لیکن وہ مختلف مسائل اور انجریز کے سبب جدوجہد کر رہے تھے۔ اس کے باوجود سلکشن کمیٹی نے بمراہ کو ایشیا کپ کے اسکواڈ میں شامل کر لیا جبکہ فارم میں رہنے والے سراج کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس فیصلے پر شائقین اور کرکٹ ماہرین نے سوال اٹھائے ہیں کہ آخر مستقل کارکردگی دکھانے والے گیندباز کو ٹیم سے باہر رکھنے کی کیا منطق ہے۔اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سراج نے گذشتہ دو برسوں میں تینوں فارمیٹس میں متاثر کن کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ٹسٹ میچوں میں انہوں نے 2023 اور 2024 کے دوران 68 وکٹیں حاصل کیں جن میں متعدد بار انہوں نے اننگس کا پانسہ پلٹنے والا کردار ادا کیا۔