برسوں کی محنت، تعلیمی کامیابیاں، نوکری پانے کی جدوجہد، کاروباری ترقی-یہ سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود پسماندہ مسلمان آج بھی اپنی سوچ، اپنے سیاسی رویے، اور سماجی حیثیت میں پسماندہ ہی ہے۔ یہ حقیقت صرف ایک جذباتی فقرہ نہیں، بلکہ وہ کڑوا سچ ہے جسے جان کر بھی پسماندہ برادری نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ پسماندہ مسلمان آج بھی اپنی شناخت کے بحران سے گزر رہا ہے، اور اس بحران کو پیدا کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ ان طاقتوں کا ہے جنہیں پسماندہ برادری نے بار بار اپنا مسیحا سمجھ کر ووٹ دیا، اور ان کا ساتھ دیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ آج بھی اپنی سماجی و سیاسی شناخت کی تلاش میں لگا ہوا ہے۔ ایک ایسا طبقہ جو اپنی محنت اور قابلیت کے باوجود آج بھی پسماندہ کہلاتا ہے — نہ صرف سوسائٹی میں، بلکہ اپنی سوچ اور ذہن سے بھی وہ پسماندہ بنا ہوا ہے۔
بھارت کو آزاد ہوئے دہائیاں گزر گئیں، لیکن پسماندہ مسلمانوں کے ساتھ ایک ایسی آئینی تفریق آج تک جاری ہے جسے ملک کا ہر انصاف پسند باشندہ غلط قرار دیتا ہے لیکن اس کے باوجود اس آئینی تفریق پر سب خاموش ہیں حتی کہ خود پسماندہ مسلمان بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ 1950 کے صدارتی حکم (Presidential Order) نے دلت ریزرویشن کو صرف ہندو، سکھ اور بودھ مذہب تک محدود رکھا ہے۔ مسلمان اور عیسائی دلتوں کو اس سے باہر کر دیا گیا۔ یہ وہ فیصلہ ہے جس نے لاکھوں پسماندہ مسلمانوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔
مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن سے انکار آئین کی روح کے خلاف ہے، لیکن افسوس کہ نہ کانگریس نے اس پر سنجیدگی سے بات کی، نہ بی جے پی نے، نہ دیگر علاقائی پارٹیوں نے۔ نہ ہی مسلمانوں کے خود ساختہ قائدین نے۔یہ ایسا آئینی زخم ہے جو ہر انتخاب میں ہرا ہوتا ہے لیکن نہ عدالتوں میں انصاف ملتا ہے نہ پارلیمنٹ میں آواز اُتھائی جاتی ہے۔سب کے سب اس بنیادی مسئلے پر طویل خاموشی کا شکار ہیںاور اس کے لئے خود پسماندہ طبقات اور ان کے لیڈران بھی ذمہ دار ہیں۔
کیا پسماندہ لیڈران اپنے ہی ایک پسماندہ قائد، بخت میاں عرف بطخ میاں کو انصاف دلا سکے؟ آج بھی ان کا خاندان در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے لیکن صدر جمہوریہ کا کیا گیا وعدہ (35بیگھہ زمین) آج تک پورا نہیں کیا جاسکا۔ کتنی ہی سیاسی پارٹی آئیں اور گئیں لیکن کوئی بھی اس سچے رہنما کو ان کا حق نہیں دلا سکی۔
پسماندہ مسلمان گزشتہ سات دہائیوں سے مختلف پارٹیوں کے پیچھے پیچھے چلتا رہا ہے۔ کبھی سیکولرزم کے نام پر، کبھی فرقہ وارانہ ڈر کے نام پر، کبھی ذات پات سے نجات کے خواب میں — لیکن ہر بار اس کے ہاتھ مایوسی ہی لگی۔ ہر پارٹی نے اسے محض ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا اور اس کے باوجود پسماندہ طبقات اپنی خود کی لیڈرشپ کھڑی کرنے کو تیار نہیں ہیں نہ ہی ان کے پاس آج تک اپنا کوئی مشترکہ ایجنڈا نہیں ہے۔چاہے کانگریس ہو یا سماجوادی پارٹی، آر جے ڈی ہو یا بی جے پی — سب نے پسماندہ مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھا ہے۔ سب نے ان کے سروں پر دستِ شفقت کا ناٹک کیا، لیکن ان کے بچوں کو تعلیم، روزگار، شناخت، تحفظ—سب سے محروم رکھا۔ وہی لفاظی، وہی وعدے، وہی دھوکہ۔ اور ہم ہر بار اسی در پر جا کر سوالی بنے کھڑے رہے۔سب نے مکمل طور پر نظرانداز کیا دیگر مقامی جماعتوں نے بھی صرف ”مفاد” کی سیاست کی۔ کسی نے بھی پسماندہ مسلمان کی اجتماعی ترقی کا کوئی بامعنی منصوبہ پیش نہیں کیااور نہ ہی آئندہ ان سے کوئی امید ہے۔
قدم اٹھائو، تو راہیں خود بخود بنتی ہیں
خدا بھی ان کا ہوتا ہے، جو کوششوں میں جیتے ہیں
پسماندہ مسلمان آج بھی قیادت کے میدان میں صفر ہے۔ نہ قومی سطح پر، نہ ریاستی سطح پر ، کوئی مضبوط، باشعور اور نڈر قیادت ابھر پائی ہے۔ پسماندہ کے نام پر بڑی بڑی تنظیمیں تو قائم ہیں لیکن بے خوف سیاسی قیادت کا فقدان آج بھی ہے ۔اسلئے کہ ایک طبقہ جو ہمیشہ دوسروں کے سائے میں رہنے کا عادی بنا دیا گیا ہو، وہ خود قیادت کرنے کے خیال سے ہی ڈرتا ہے۔ اور یہی سب سے خطرناک پسماندگی ہے جسے ہم ذہنی غلامی بھی کہہ سکتے ہیں۔
جس طبقے کے پاس تعداد ہو، ہنر ہو، محنت ہو اور نظریاتی وزن بھی ہو، اگر وہ خود اپنے حق کے لیے آواز نہ اٹھائے تو وہ صرف مظلوم نہیں، بلکہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے مجرم بھی ہوتا ہے اور اب بھی کچھ نہیں کیا تو ہم سب مجرم ہی رہیں گے۔
پسماندہ مسلمانوں نے ہر موقع پر خاموشی کو ترجیح دی۔ وقف جائیدادوں کی لوٹ ہو یا پولیس کی زیادتی، تعلیمی زبوں حالی ہو یا شناخت کا بحران — وہ ہر بار خاموش رہا، یا کسی اور کے سہارے تلاش کرتا رہا،مگر اپنی ذہنی پسماندگی سے نہیں نکل سکا۔ہر ظلم و زیادتی کے خلاف آواز بلند نہ کر سکا۔اپنے حقوق کے لئے لڑائی نہیں لڑی اور اب بھی تیار نہیں ہے۔اگر پسماندہ مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کے بچے پڑھ لکھ جائیں، نوکری پا لیں، یا اپنا روزگار قائم کر لیں، تو ان کی پسماندگی ختم ہو جائے گی۔تویاد رکھیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔اُن کو سرکاری نوکری کے ساتھ ساتھ سیاست اور انتظامیہ (Administration) کا حصہ بننا ہوگا۔جب تک ایک قوم کو سیاسی شعور حاصل نہ ہو، جب تک وہ خود اپنی قیادت نہ کھڑی کرے، جب تک وہ نظام میں تبدیلی کے لیے منظم آواز نہ اٹھائے — تب تک وہ چاہے جتنی بھی ترقی کر لے، وہ ذہنی طور پر غلام ہی رہتی ہے۔
یہی حال پسماندہ مسلمان کا ہے۔ ترقی کی چند مثالوں کو بنیاد بنا کر وہ اصل محرومی کو نظرانداز کر رہا ہے۔اب وقت ہے کہ پسماندہ مسلمان اپنی پہچان، اپنے حقوق، اور اپنے وجود کے لئے جدوجہد کریں۔ اب دوسروں کے سہارے جینے کا وقت ختم ہو چکاہے۔اب اپنی جماعت، اپنی قیادت، اپنا ایجنڈا بنانے کی ضرورت ہے۔ اپنی سوچ اور ذہن سے پسماندگی کا خیال نکالنا ہوگا۔ اس خاموشی کو ختم کرنے کا وقت ہے جو ہمیں گمنامی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ منووادی اور پونجی وادی عناصر ہمیں لڑانے کا کام کر رہے ہیں ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔ اگر ہم اب بھی نہ جاگے، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔