نئی دہلی13اگست: ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سابق گورنر دُوُّری سبّاراؤ نے ہندوستان پر عائد کردہ امریکی ٹیرف کے خطرناک اثرات سے متعلق تشویش ناک اندیشوں کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے امریکہ ہی نہیں، چین کو بھی ہندوستان کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ڈی سبّاراؤ نے تنبیہ کی ہے کہ ہندوستان پر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ ہندوستانی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کی تجویز اور ہندوستانی بازاروں مین چینی ڈمپنگ کے جوکھم کا دوہرا دباؤ ہے۔ ایک میڈیا ادارہ کو دیے گئے انٹرویو میں سابق آر بی آئی گورنر نے ہندوستانی معیشت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے متعلق انتہائی وضاحت کے ساتھ اپنی باتیں رکھی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہی جوائنٹ پریشر مینوفیکچرنگ سیکٹر کی مقابلہ آرائی کو کمزور کر سکتے ہین۔ جی ڈی پی اضافہ کو بھی یہ 50 بیسس پوائنٹس تک سست کر سکتے ہیں اور ملک کی بے روزگاری ڈیولپمنٹ سے متعلق چیلنجز کو مزید بدتر بنا سکتے ہیں۔ ڈی سبّاراؤ (جنھوں نے 2008 کے عالمی معاشی بحران کے دوران ہندوستان کی قیادت کی تھی) نے کہا کہ امریکہ کا ٹیرف ہندوستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 2 فیصد (تقریباً 79 ارب ڈالر یا 7 لاکھ کروڑ روپے) ویلیو کے ایکسپورٹ کو خطرہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس سے مارجن کم ہو جائے گا، آرڈرس ڈائیورٹ ہو جائیں گے، ملازمتیں جائیں گی اور پلانٹس کا سائز چھوٹا ہو جائے گا۔ وہ اپنا اندازہ ظاہر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہندوستان اس جھٹکے کو کتنی اچھی طرح سے سنبھالتا ہے یا ڈائیورٹ کرتا ہے، اس کی بنیاد پر شرح ترقی پر 20-50 بیسس پوائنٹس کا اثر پڑے گا۔