نئی دہلی ،14 جولائی (یو این آئی) جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی جانب سے اُدئے پور فائلز نامی ہندی فلم کی نمائش روکنے کے لیئے دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی پٹیشن پرہائی کورٹ کی جانب سے نمائش پر اسٹے دینے اور سینسر بورڈ کی جانب سے جاری کیئے گئے سرٹیفیکٹ پر نظر ثانی کولیکراپیل داخل کرنے کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے آج مولانا ارشد مدنی کے وکلاء نے وزارت اطلاعات ونشریات کے روبرواپیل داخل کردی ہے۔آج یہاں جاری ریلیز کے مطابق توقع ہے کہ اس عرضی پر وزارت آئندہ چنددنوں میں سماعت کرسکتی ہے۔اسی درمیان فلم پروڈیوسر نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاہے ۔ آج فلم پروڈیوسر کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیاکی درخواست پر جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پر سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔مولانا ارشد مدنی نے بھی سپریم کورٹ میں گذشتہ شب ہی کیویٹ داخل کردیا تھا یعنی کہ اب مقدمہ کی سماعت کے دوران مولانا ارشد مدنی کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کے دلائل کی سماعت بھی کرے گی۔مولانا ارشد مدنی کی جانب سے وزارت اطلاعات ونشریات میں داخل پٹیشن میں تحریر کیا گیا ہے کہ اودئے پورفائلز جیسی فلمیں سماج میں تفریق پھیلانے کا کام کررہی ہیں نیز اس فلم کی تشہیر سے دنیا میں ہندوستان کی بدنامی ہوگی، عرضی میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں صدیوں سے ہندو مسلم ایک ساتھ رہتے آئے ہیں چنانچہ ایسی فلموں کی نمائش سے فرقہ وارانہ یکجہتی کو سخت خطرہ لاحق ہوسکتاہے ۔ یہ پوری فلم ہی نفرت پر مبنی ہے لہذا ایسی فلم کی نمائش سے ملک کے امن میں خلل پڑ سکتاہے ۔حکومت ہند کو یہ بھی بتایا گیا کہ نوپور شرما کے بیان کے سبب ماضی میں بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی بدنامی اوررسوائی ہوچکی ہے اور اسی کے پیش نظر حکومت ہند نے سفارتی سطح پر بیان جاری کرکے کہا تھا کہ ہندوستان میں تمام مذاہب اور فرقوں کا احترام کیا جاتا ہے۔اسی طرح نوپور شرما کو ان کے بیان کی پاداش میں ترجمان کے عہدے سے بھی برطرف کردیاگیا تھا۔
انہی اقدامات کے سبب بین الاقوامی پلیٹ فارم پرہندوستان کے تعلق سے کسی حد تک بدگمانی کم ہوئی تھی اورملک کی شبیہہ قدربہترہوئی ۔