بھوپال:13؍جولائی:مدھیہ پردیش اردو اکادمی، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام ضلع ادب گوشہ، سیہور کے ذریعے سلسلہ کے تحت سیہور سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر مسعود علی خاں اختر کو منسوب شعری و ادبی نشست کا انعقاد 13 جولائی ، 2025 کو دوپہر 3:00 بجے سیہور کلب، سیہور میں ضلع کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد انیس کے تعاون سے کیا گیا۔مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ “’سلسلہ‘ اکیڈمی کا ایک خاص پروگرام ہے، جس کے تحت تخلیق کاروں کو ان کی صنف کے مطابق پیش کش کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ہم ان مرحوم ادبی اور سماجی شخصیات کو بھی یاد کرتے ہیں جنہوں نے معاشرے میں نمایاں کردار ادا کیا یا اردو ادب کو اپنی خدمات سے ثروت مند کیا۔ مسعود علی اختر کی شاعری انسانیت، بھائی چارے اور وطن پرستی کی حساس آواز ہے۔ ان کو یاد کرنا ہماری ثقافتی ذمہ داری ہے۔
سیہور ضلع کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد انیس نے بتایا کہ منعقدہ پروگرام میں سلسلہ کے تحت دوپہر 3:00 بجے شعری و ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت سیہور کے سینئر شاعر ماسٹر مسرور کوثر نے کی۔ساتھ ہی مہمانان ذی وقار کے طور پر باڑی بریلی کے سینئر شاعر ساجد انصاری، رشید شیدا، رگھوور دیال گوہیا اور ثروت خان پر جلوہ افروز رہے۔ نشست کی شروعات میں مسعود علی خاں اختر کی حیات و خدمات کے حوالے سے سینئر صحافی رگھوور دیال گوہیا نے گفتگو کرکے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔انھوں نے کہا کہ مسعود علی خاں اختر کا شمار سیہور ضلع کے اہم شعراء میں ہوتا تھا۔ ان کی پیدائش نومبر 1927 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم پہلے آشٹہ اور پھر سیہور میں حاصل کی۔ جہاں تک ان کی شاعری کا تعلق ہے، انہوں نے شروعات میں مزاحیہ رنگ میں شاعری کی، پھر سنجیدہ رنگ اختیار کیا اور صنف غزل میں اپنے قلم کے جوہر دکھائے۔ ان کا کوئی استاد نہیں تھا، لہٰذا انہوں نے اپنی غزلوں کو خود تراشا۔ انھوں نے اپنی شاعری میں انسان دوستی، بھائی چارہ، ہمدردی، اور وطن سے محبت جیسے موضوعات پیش کیے۔ ان کا شعری مجموعہ “آئینہ فکر” مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے مالی تعاون سے 1998 میں شائع ہوا۔
شعری نشست میں جو اشعار پسند کیے گئے وہ درج ذیل ہیں:
ماسٹر مسرور کوثر
ہم نے ہونٹوں کو سی لیا لیکن
راز سب کو بتا دیا تم نے
ساجد انصاری
ہم زندگی کی رہ پہ چلے سوچ سمجھ کر
سب چل دیے جدھر کو ادھر تو نہیں گئے
رشید شیدا
بہار دیکھ کے روتی تھی خون کے آنسو
خزاں نے میرے گلستاں کا جب شکار کیا
ماسٹر حبیب ساغر
یہ دنیا ہے عبرت سنبھل جا سنبھل جا
مراحل ہیں ورنہ وہاں کیسے کیسے
جاوید آشٹوی
ہجر میں بیت گئے کتنے زمانے گن لو
انگلیوں پہ نہیں تسبیح کے دانے گن لو
تمکین بہادر
ناراضگی کیوں ہے بس اتنا تو بتا دیجے
ناکردہ خطاؤں کی دینا ہے سزا دیجے
ڈاکٹر انیس خان
یوں تو لاکھوں ہیں زمانے کو مٹانے والے
صرف دو ایک ہی ملتے ہیں بنانے والے
صادق رائین
جو غریبوں پہ مہربان ہوا کرتے ہیں
بس وہی لوگ تو انسان ہوا کرتے ہیں
اویس رائین
نیا سورج اگانا چاہتے ہو
زمیں کو کیا دکھانا چاہتے ہو
پرویز محمد
زندگی جینے کا مجھے بھی بہانہ دے دے
اے خدا اپنی عنایت کا خزانہ دے دے
پروگرام کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر انیس نے انجام دیے۔ پروگرام کے آخر میں محمد صغیر نے تمام مہمانوں، تخلیق کاروں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔