مظفر پور، 9 جولائی : (پریس ریلیز) مظفرپور کی قدیم دینی و اقامتی درسگاہ مدرسہ حسینیہ صدیقیہ ، رحیم پور میں ادارہ ہٰذا کے سرپرست ، کئی کتابوں کے مصنف اور ملک کی ممتاز علمی شخصیت مفتی ڈاکٹر محمد عرفان عالم قاسمی کی پُر مسرت تشریف آوری ہوئی ۔ اس پُر سعادت موقع پر ادارہ کی جانب سے طلبہ کے لیے ایک خصوصی اصلاحی و تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، اس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی اور بعض طلبہ نے مختصر مگر بامقصد تقریریں بھی پیش کیں۔بعد ازاں مفتی صاحب نے طلبہ سے انتہائی بصیرت افروز اور ناصحانہ خطاب فرمایا ۔ آپ نے اپنے پُر اثر انداز میں طلبہ و علماء کی عظمت ، دینی تعلیم کی اہمیت ، اساتذہ کے ادب و احترام ، وقت کی قدر و منزلت اور ادارے کی چیزوں کے بہتر استعمال جیسے اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو فرمائی۔
آپ نے فرمایا کہ طلباوعلمائے کرام کا مقام بہت بلند و برتر ہے ، یہاں تک کہ رب کائنات کی نورانی مخلوق یعنی فرشتے بھی ان کی راہوں میں اپنے پر بچھا دیتے ہیں ۔ اللہ کی ہر مخلوق ان کے لیے دعا کرتی ہے لہذا طلبہ کو ہرگز خود کو معمولی نہ سمجھنا چاہیے اور احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے ۔ اللہ تعالی نے ان کی قدر و منزلت بہت بلند کر دی ہے۔مفتی صاحب نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اپنے دورِ طالب علمی کی جدوجہد کا تذکرہ بھی کیا۔
انہوں نے فرمایا کہ میرا زمانۂ تعلیمی مشقت بھرا تھا ۔ سخت حالات کا سامنا کیا ۔ لوگوں نے مجھے کمتر سمجھا ، میرے حوصلے اور عزائم کا مذاق اڑایا لیکن میں نے تمام منفی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی تعلیمی سفر کو جاری رکھا۔ وقت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا کہ وقت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے ، آپ طلبہ اپنا وقت صرف پڑھائی اور علم کے حصول میں لگائیں ، غیر ضروری مشاغل اور فضول کاموں سے بچیں ۔ یہ عمر محنت اور مشقت کی ہے اگر آج کی محنت سنجیدگی سے جاری رہے تو کل آپ وہ ہستی ہوں گے جسے دنیا ہاتھوں ہاتھ لے گی عزت دے گی اور آپ کی قدر کرے گی۔بیان کے اختتام پر حضرت نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ مدرسہ آپ کا گھر ہے، اس کی ہر چیز کی حفاظت آپ کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور ذمہ دارانِ ادارہ کا احترام بھی لازم ہے۔خطاب کے بعد حضرت نے دعا فرمائی، جس پر یہ پُر اثر اور بابرکت نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔اس موقع پر مدرسہ کے صدر المدرسین مولانا سلطان صاحب قاسمی، مفتی محمد توصیف قاسمی، قاری ماجد صاحب وغیرہ موجود تھے ۔