نئی دہلی 7جولائی: سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے متعلق جاری تنازعہ کے درمیان سابق سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سرکاری بنگلہ خالی کرنے میں تاخیر کے متعلق کہا کہ ان کی بیٹیاں ریئر ڈِس آرڈر سے متاثر ہیں، جن کے لیے انہوں نے گھر میں ہی آئی سی یو کا سیٹ اَپ کیا ہے اور ان کے کسی نئے گھر میں شفٹ ہونے کے لیے ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ واضح ہو کہ جسٹس چندرچوڑ سی جے آئی کی رہائش گاہ چھوڑنے کے بعد 3 مورتی مارگ پر الاٹ شدہ سرکاری رہائش میں رہیں گے۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ابھی دہلی میں 5 کرشنن مینن مارگ پر ٹائپ 7 بنگلہ میں رہ رہے ہیں۔ بار اینڈ بنچ سے بات کرتے ہوئے سابق سی جے آئی نے کہا کہ ’’ہم نے اپنا سامان اور فرنیچر پیک کر لیا ہے۔ صرف روزانہ استعمال ہونے والا فرنیچر باہر ہے، جسے ایسے ہی ٹرک میں رکھ کر نئے گھر لے جائیں گے۔ اس سب میں مشکل سے 10 روز اور لگیں گے یا زیادہ سے زیادہ 2 ہفتے لگ سکتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی سابق سی جے آئی نے بتایا کہ پہلے بھی کئی ججوں کو بنگلے میں رہنے کا وقت بڑھایا جا چکا ہے۔ واضح ہو کہ جسٹس چندرچوڑ نومبر 2024 میں سی جے آئی کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے۔ انہیں اس بنگلہ میں رہتے ہوئے 8 ماہ گزر چکے ہیں۔
جس پر سپریم کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مرکزی شہری ترقی کی وزارت کو خط لکھ کر بنگلہ خالی کرانے کو کہا۔ خط میں بتایا گیا کہ انہیں عارضی رہائش گاہ کے طور پر ٹائپ 7 بنگلہ ملا تھا، لیکن سپریم کورٹ انتظامیہ سے درخواست کر کے انہوں نے پرانے بنگلہ میں 30 اپریل 2025 تک رہنے کی اجازت طلب کی تھی۔