ممبئی، 3 جولائی: مہاراشٹر میں رواں سال کے اوائل 3 ماہ کے دوران 767 کسانوں کی خودکشی کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں لگاتار بی جے پی حکومت کو اس کے لیے ذمہ داری ٹھہرا رہی ہیں۔ مہاراشٹر کی فڑنویس حکومت کے ساتھ ساتھ مرکز کی مودی حکومت کو بھی ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اس معاملے میں براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی پر ہی حملہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کی گئی ایک پوسٹ میں پرینکا گاندھی نے لکھا ہے کہ ’’مہاراشٹر میں 3 مہینوں میں 767 کسانوں نے خود کشی کر لی، یعنی روزانہ 8 کسان اپنی زندگی ختم کر رہے ہیں۔ معاشی بحران، بڑھتا قرض، برباد ہوتی فصلیں، کھاد-بیج-ڈیزل کی مہنگائی اور فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنا کسانوں کے گلے کی پھانس بن گیا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتی ہیں کہ ’’نریندر مودی جی کی حکومت نے چند ارب پتیوں کے تو 16 لاکھ کروڑ روپے معاف کر دیے، لیکن جن کسانوں سے ’دوگنی آمدنی‘ کا وعدہ کیا تھا، چھوٹی سی مدد دے کر ان کی جان بچانے کے بارے میں بھی کبھی نہیں سوچا۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹر میں کسانوں کی بڑھتی خودکشی معاملہ پر کانگریس نے بھی 2 جولائی کو سوشل میڈیا پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کی گئی پوسٹ میں پارٹی نے لکھا تھا کہ ’’2025 کے ابتدائی 3 مہینوں میں مہاراشٹر میں 767 کسانوں نے خودکشی کر لی۔ یہ اعداد و شمار بے حد حیران کرنے والے ہیں، جو مودی حکومت میں کسانوں کی بدحالی بیان کر رہے ہیں۔‘‘ کانگریس نے اس پوسٹ میں کسانوں کی حالت زار کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’’بی جے پی حکومت میں کسان بھاری قرض سے دبے ہیں، وہ معاشی بحران سے نبرد آزما ہو رہے ہیں، زراعت کے سامان پر جی ایس ٹی نافذ ہے، انھیں فصل کی صحیح قیمت نہیں مل رہی۔‘‘