اترپردیش کے ضلع بجنور، تحصیل نجیب آباد کے ساہن پور پرائمری اسکول دوم کی ہیڈ مسٹریس رفعت خان کو اسکول کے صدر دروازے پر اردو میں اسکول کا نام لکھوانے کے سبب معطل کر دیا گیا ہے۔ معطلی کا یہ حکم بیسک ایجوکیشن آفیسر یوگیندر کمار کی جانب سے جاری کیا گیا۔ معاملہ سوشل میڈیا پر عام ہوتے ہی اردو حلقوں میں شدید غم و غصہ ہے اوراب ہر جگہ سے بیسک ایجوکیشن آفیسر پر کارروائی کی مانگ اُٹھنے لگی ہے ،حکومت کو فوری طور پرکارروائی کرنا چاہئے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب تین ماہ قبل سپریم کورٹ نے اردو کے حق میں ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ مہاراشٹر سے متعلق اس فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے اردو کو بھارت کی زبان تسلیم کرتے ہوئے اردو میڈیم کے طلبہ کے ساتھ مساوی سلوک کی ہدایت دی۔نیز یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اُردو زبان بھارت کی لسانی شناخت کا ضروری حصہ ہے۔ عدالت نے اردو کو خالص بھارتی پس منظر رکھنے والی زبان قرار دیاہے اور اس کے خلاف عرضی دائر کرنے والے کی دلیل کو لسانی تعصب سے تعبیر کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کا تنوع اس کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔اُردو گنگا جمنی تہذیب کی اعلیٰ مثال ہے۔ معزز ججوں نے یہ بھی کہا کہ اُردو زبان کسی دوسرے ملک سے درآمد زبان نہیں ہے بلکہ بھارت کی ہی بیٹی اور ہندی کی بہن ہے جو بھارت میں ہی پلی بڑی ہے اور یہ ایک دیسی زبان کا درجہ رکھتی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اُردو کو غیر ملکی کہنا یا صرف مسلمانوں کی زبان ماننا تاریخی غلط فہمی ہے بلکہ اس طرح کے نظریہ کو انگریزوں کی پالیسی Divide & Rule سے تعبیر کیاگیا ہے۔آرڈر میں کہا گیا کہ ہندی کو ہندئووں سے اور اُردو کو مسلمانوں کی زبان کے طور کھڑا کرنا ہماری مشترکہ وراثت پر ایک حملہ ہے ۔یہ بہت بڑی چوٹ ہے اور سماج کو باٹنے کے مترادف ہے۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب اردو ہمارے ملک بھارت کی چھٹی سب سے زیادہ بولی اور استعمال کی جانے والی زبان ہے،خود اترپردیش کی دوسری سرکاری زبان ہے اور ملک کی سب سے بڑی عدالت اس کے تحفظ کا اشارہ دے چکی ہے، تو ریاستی سطح پر اسے نظرانداز یا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ بر سر اقتدار پارٹی کے رہنمائوں کی تنگ نظری ،نفرتی اور تعصبانہ رویہ نہیں تو اور کیا ہے؟
بھارتی آئین کے آرٹیکل 343کے تحت ہندی کو دفتری زبان ضرور قرار دیا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہزگز نہیں ہے کہ اُردو یا بھارتی زبان کی حیثیت ختم ہو گئی ہے اور یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب ہم اُردو پر تنقید کرتے ہیں تو ہم ہندی پر بھی تنقید کرتے ہیں کیونکہ ماہرین کے مطابق ہندی اور اُردو دو مختلف زبانیں نہیں بلکہ ایک ہی زبان ہے۔یہ تقسیم صرف مذہبی سیاست، لسانی دشمنی اور تعصبانہ رویہ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ہندی اور اُردو ایک دوسرے کے سہارے ہی آگے بڑھ سکتی ہیں اور پھل پھول سکتی ہیں۔
اردو ملک کی اُن زبانوں میں شامل ہے جن کا تاریخی، تہذیبی اور ادبی پس منظر انتہائی مضبوط ہے۔ بجنور وہ ضلع ہے جہاں سے ڈپٹی نذیر احمد، سجاد حیدر یلدرم، اختر الایمان جیسے اردو کے بڑے نام وابستہ رہے ہیں۔ ایسے میں اسی ضلع میں اردو زبان کے استعمال پر سزا دینا اردو ورثے کی توہین تصور کیا جا رہا ہے۔اردو کے ساتھ امتیازی سلوک کی یہ پہلی مثال نہیں۔ ملک کے کئی حصوں میں اردو اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں، اردو اخبارات کو سرکاری اشتہارات کم ملتے ہیں، اردو یونیورسٹیوں کی تعداد ناکافی ہے، اور سرکاری ترجمے و دفتری زبان کے طور پر اردو کا استعمال بھی محدود ہوتا جا رہا ہے۔
اردو ایک عالمی زبان ہے جس کے بولنے والے کروڑوں کی تعداد میں ملک و بیرون ملک میں موجود ہیں۔ یہ نہ صرف ادبی سرمایہ رکھتی ہے بلکہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ فلم، میڈیااور موسیقی وغیرہ میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اردو کو اگر آئینی، تعلیمی اور ثقافتی تحفظ نہ دیا گیا تو یہ ایک زبان کی نہیںبلکہ ایک مکمل تہذیبی ورثے کی موت ہے۔بھارت کی بیٹی کی موت ہے جس کا گلا خود بھارتی لوگوں نے گھونٹا ہے۔ ہم سب اس کے مجرم قرار پائیں گے۔اس لئے کہ یہی وہ زبان ہے جو ایون کی زبان ہے، سبھی محفلوں کا آغاز بھی اسی زبان سے ہوتا ہے۔ بھارت کی ثقافت ہے ،بھارت کی بیٹی ہے، ہندی کی بہن ہے۔
جس طرح ہر علاقہ کے لوگ اپنی علاقائی زبان کو فخر سے بولتے اور استعمال کرتے ہیں، اُسی طرح اُردو کو بھی اپنایا جانا چاہیے۔ اُردو صرف ایک زبان نہیں، بلکہ بھارت کی گنگا-جمنی تہذیب کی نمائندہ ہے۔ یہ ہماری مشترکہ وراثت ہے، اسے زندہ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کے بعد بھی بجنور واقعہ کا ہونا لسانی تعصب کی تازہ ترین مثال ہے،گویا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی بھی ہے اور حکومت کی نئی ایجوکیشن پالیسی کی مخالفت بھی ۔اردو حلقوں کا مطالبہ ہے کہ رفعت خان کو فوری انصاف دیا جائے متعلقہ افسر پر سخت سے سخت کارروائی کی جائے اور ریاستی حکومت اردو کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کرے یہی حقیقی معنوں میں انصاف ہوگا۔









