نئی دہلی، 25 جون (یو این آئی) کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے منصب کے وقار گھٹایا ہے اور وہ ملک کے آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اور اب کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی دستور بچاؤ مہم کی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر اپنی حکومت کی ناکامی کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مسٹر ملک ارجن کھڑگے نے بدھ کے روز یہاں پارٹی کے نئے ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں خصوصی پریس کانفرنس میں کہا کہ مسٹر نریندر مودی ملک میں وفاقیت اور تمام ریاستوں کے ساتھ برابری کی بات کرتے ہیں، لیکن سچائی یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں کے تئیں ان کا رویہ مختلف ہے۔ مسٹر نریندر مودی اور ان کی حکومت ملک کے دستور اور جمہوریت کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے اور اپوزیشن کے ساتھ امتیازی سلوک کرکے ملک کو تباہ کرنے کا کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پہلگام حملے کے بعد پورا ملک متحد ہے اور کانگریس سمیت تمام اپوزیشن نے ہر فیصلے میں حکومت کا ساتھ دیا ہے تو اس کے جواب میں مودی حکومت عوام اور جمہوریت کے مفادات کو اہمیت دینے کے بجائے ایمرجنسی کی بات کرکے اپوزیشن کے خلاف سازش کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر نریندرمودی یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک کی جمہوریت کو ایمرجنسی کے دوران ختم کر دیا گیا تھا اور اب اسے بحال کیا جا رہا ہے۔ کمال یہ ہے کہ جن لوگوں کا ملک کی تحریک آزادی اور آئین سازی میں کوئی کردار نہیں رہا ہے، وہ دستور بچانے کی بات کر رہے ہیں۔ جنہوں نے اس آئین کو بنانے میں تعاون نہیں کیا، ہمیشہ آئین کے خلاف بولے، جو دستور بابا صاحب امبیڈکر، پنڈت جواہر لعل نہرو، مہاتما گاندھی اور دستور ساز اسمبلی نے تیار کیا تھا ، اسے رام لیلا میدان میں آر ایس ایس کے لوگوں نے جلایا اور بابا صاحب امبیڈکر، نہرو جی اور گاندھی جی کے پتلے جلائے۔
آر ایس ایس کے لوگوں کا کہنا تھا کہ بابا صاحب امبیڈکر جی کے بنائے ہوئے آئین میں ان کی روایتی ثقافت اور منواسمرتی کے اقتباسات شامل نہیں ہیں، اس لیے وہ اس آئین کو قبول نہیں کریں گے۔