نئی دہلی 19جون:’’میری سبھی طلبا سے اپیل ہے کہ آپ فیل نہیں ہوئے ہیں، اس لیے خود کو سزا مت دیجیے۔ راہل گاندھی جی، کانگریس پارٹی آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ آنے والے وقت میں ’چھاتروں کی گونج‘ پورے ملک میں صدائے احتجاج کی شکل اختیار کرے گی۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس کے نوجوان لیڈر اور این ایس یو آئی انچارج کنہیا کمار نے دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انھوں نے طلبا کو بھروسہ دلایا کہ امتحانات میں جو بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں، ان کے خلاف جنگ میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں موجودہ تعلیمی نظام پر فکر کا اظہار کرتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ ’’اڈیشہ کے نصاب میں سائنسدانوں کو پائلٹ بتا دیا گیا۔ ایسی کئی غلطیاں ہیں۔ وہیں راجستھان میں امتحان میں سوالنامہ کی جگہ جوابی شیٹ دے دی گئی۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ لوگوں کو ناخواندہ رکھ کر ملک کو ترقی یافتہ کیسے بنایا جائے گا؟ جب ملک میں لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں، تو ہندوستان ترقی یافتہ کیسے بنے گا؟‘‘ طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’پرچی والے وزیر اعظم کے راج میں تعلیم کو ’پروڈکٹ‘ بنا دیا گیا ہے۔ آج تعلیم کسی کے لیے آسان نہیں ہے اور اس کے ذمہ دار وہ نااہل لوگ ہیں جو عہدوں پر بیٹھے ہیں۔ دراصل مودی حکومت کا تعلیم کو لے کر زاویۂ نگاہ ہی گڑبڑ ہے۔‘‘ وزیر اعظم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے جملہ دیا تھا ہم ہارورڈ والے نہیں، بلکہ ہارڈ ورک (سخت محنت) والے ہیں۔ ان کا یہی ہارڈ ورک ہے کہ پیپر لیک ہو جا رہا ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ جو حکومت ’ووٹ چوری‘ کرے گی، وہ پیپر چرائے گی۔ جس حکومت میں بیٹھے لوگ ایجوکیشن کا ’ای‘ نہیں جانتے، وہ ایسا ہی شگوفہ چھوڑیں گے اور ٹیلیگرام پر پابندی لگا دیں گے۔
‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’پیپر لیک روکنے کے لیے سخت قدم اٹھانے ہوں گے، این ٹی اے پر پابندی لگانی ہوگی۔ لیکن ’پریکشا پر چرچہ‘ کرنے والے پی ایم مودی پیپر لیک پر ایک لفظ نہیں بولتے۔ آج کوئی ایسا امتحان نہیں جس کا پیپر لیک نہ ہو رہا ہو۔ اب سوال یو پی ایس سی جیسے امتحان پر بھی اٹھ رہا ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ان سب کے لیے مودی حکومت میں بیٹھے لوگوں کے ناکارے پن کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ’’حکومت میں تعلیم کے تئیں سنجیدگی کی کمی نے تعلیم جیسے اہم نظام کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔‘









