بھوپال:11؍اگست:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ محکمہ جنگلات ریاست میں تیزی سے بڑھ رہے سیاحتی امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگلاتی سیاحت کی ترقی پر خصوصی توجہ دے۔ انہوں نے محکمہ جاتی افسران کو ہدایت دی کہ ریاست میں جہاں جہاں جنگلاتی سیاحت کی ترقی اور توسیع کے موزوں امکانات دستیاب ہیں، وہاں محکمہ جنگلات، محکمہ سیاحت کے ساتھ اشتراک کریں اور ٹھوس ایکشن پلان تیار کرکے اس پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کاقدرتی سرمایہ، حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کی سیاحت کے وسیع امکانات ریاست کی معیشت کو نئی رفتار دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو منگل کو منترالیہ میں مدھیہ پردیش ریاستی جنگلی حیات بورڈ (اسٹیٹ وائلڈ لائف بورڈ)کی32ویں میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے خصوصی طور پر ہوم اسٹے کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مقامی لوگوں، جنگلاتی باشندگان اور قبائلی خاندانوں کو اپنے ہی علاقے میں روزگار اور آمدنی کے اضافی مواقع ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلاتی سیاحت کا فائدہ صرف سیاحوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ جنگلات کے درمیان اور آس پاس رہنے والے جنگلاتی باشندوں اور قبائلی خاندانوں کی خوشحالی کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ سیاحتی سرگرمیوں کی توسیع میں مقامی برادری کی شرکت یقینی بنائی جائے۔ اس سے ایک جانب سیاحوں کو مقامی ثقافت اور روایات کو سمجھنے کا موقع ملے گا، وہیں دوسری جانب دیہی اور قبائلی معیشت کو مضبوطی ملے گی۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ دوسری ریاستوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں، ان سے بالغ اور صحت مند جنگلی جانوروں کا تبادلہ کریں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آندھرا پردیش، آسام، کرناٹک کو مدھیہ پردیش میں دستیاب شیر دے کر ان سے ہاتھی، گینڈے اور دیگر جنگلی جانور لیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے جنگلاتی زمین کے استعمال کے حوالے سے افسران کو واضح ہدایات دیں کہ جنگلاتی زمین میں ہونے والے کسی بھی مقصد کے لیے ڈائیورسن پر سخت نظر رکھی جائے۔ جنگلاتی زمین میں غیر قانونی کھدائی کسی صورت نہ ہونے پائے۔
میٹنگ میں ریاست کے قومی پارکوں اور ٹائیگر ریزرو علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق مختلف تجاویز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کل 30 تجاویز توثیق کے لیے پیش کی گئیں، بورڈ نے غور و خوض کے بعد انہیں منظوری دے دی۔ ان میں ریاست میں واقع قومی پارکوں کی حدود میں موجود جنگلاتی گائووںمیں سی سی روڈ کی تعمیر، ٹائیگر ریزرو میں واقع جنگلاتی گائووںمیں پکی سڑکوں کی تعمیر، قومی پارک اور ٹائیگر ریزرو علاقوں میں موبائل ٹاورس کی تنصیب، ذیلی صحت مراکز کی تعمیر، بجلی کی لائن بچھانے سمیت دیگر ضروری تعمیراتی کاموں سے متعلق توثیق کی تجاویز شامل تھیں۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ قومی پارکوں اور ٹائیگر ریزرو کی حدود میں موجود جنگلاتی گائووں میں کوئی بھی تعمیر یا ترقیاتی کام آبادی کو اعتماد میں لے کر ہی کئے جائیں۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ترقی اور تحفظ کے درمیان برابر کا توازن برقرار رکھتے ہوئے جنگلاتی سرمایہ کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان کسی بھی قسم کا تصادم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ جنگلاتی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی بنیادی سہولیات میں توسیع کرتے ہوئے یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ ترقیاتی کاموں سے جنگلات اور جنگلی جانوروں کے تحفظ پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ سیاحتی سرگرمیوں کی توسیع میں مقامی برادری کی شرکت بھی یقینی بنائی جائے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ جنگلی حیات بورڈ میں ماہرین کی خدمات فراہم کرنے کے لیے مرکزی حکومت اور ریاست کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے سینئر افسران کو بھی خصوصی مدعو رکن کے طور پر شامل کیا جائے۔میٹنگ میں جنگلات و ماحولیات کے وزیر مملکت مسٹر دلیپ اہیر وار، چیف سیکریٹری مسٹر اشوک برنوال، ایڈیشنل چیف سیکریٹری مسٹر نیرج منڈلوئی، پرنسپل سیکریٹری جنگلات مسٹر راگھویندر کمار سنگھ، جنگلی حیات بورڈ کے رکن ڈاکٹر موہن ناگر، ڈاکٹر روپ نارائن مانڈوے، مسٹر وجے منوہر تیواری، مسٹر ویاس، رکن اسمبلی مسٹر مدھو سنگھ گہلوت، بھاؤ راؤ بھسکٹے ٹرسٹ نرمداپورم کے رکن اور بھارت بھارتی بیتول کے رکن، دین دیال شکشا سنستھان چترکوٹ کے رکن، پی سی سی ایف مسٹر سدھیر رنجن سین، چیف وائلڈ لائف وارڈن محترمہ سمیتا راجورا سمیت محکمہ جنگلات کے دیگر سینئر افسران موجود تھے۔