چنئی، 21 جون (یو این آئی) ہندوستان کے کپتان شبھمن گل نے کہا ہے کہ یکم جولائی سے شروع ہونے والے دورۂ انگلینڈ کے لیے منتخب ٹیم سے وہ اپنی بہترین پلیئنگ الیون بنانے کی کوشش کریں گے۔افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں 3-0 سے ملی جیت کے بعد انہوں نے کہا کہ “جب اتنے سارے کھلاڑی اچھا مظاہرہ کر رہے ہوں تو یہ ایک اچھا سردرد (خوش آئند الجھن) ہوتا ہے۔ اس لیے ہم دورۂ انگلینڈ کے لیے (جہاں یکم جولائی سے پانچ ٹی ٹوئنٹی اور تین ون ڈے میچوں کی سیریز شروع ہوگی) ون ڈے ٹیم کو دیکھیں گے اور اپنی بہترین الیون کا انتخاب کریں گے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ تمام کھلاڑیوں کی فٹنس کیسی ہے۔ اگر سب فٹ ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا، ٹیم کا اعلان ہوگا اور اس کے بعد ہم دستیاب کھلاڑیوں کی بنیاد پر مضبوط ترین الیون بنانے کی کوشش کریں گے۔
جیسوال ہندوستان کی ون ڈے الیون کے باقاعدہ رکن نہیں ہیں۔ گزشتہ دسمبر وشاکھاپٹنم میں انہوں نے مارکو یانسن، لُنگی اینگیڈی اور کیشو مہاراج جیسے گیند بازوں سے سجی ساؤتھ افریقہ کی ٹیم کے خلاف ناٹ آؤٹ 116 رن بنائے تھے، لیکن اس کے فوراً بعد انہیں ٹیم سے باہر ہونا پڑا تھا۔ اس میچ میں شاندار کارکردگی کے باوجود ان کی جگہ پکی نہیں ہو سکی تھی۔ ہفتے کے روز انہوں نے ایک اور سنچری بنائی اور ٹیم مینجمنٹ کی طرف سے ملنے والی حمایت کا اعتراف کیا۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ “میں صرف اپنے کام پر دھیان دیتا ہوں، جو چیزیں میرے کنٹرول میں ہیں ان پر فوکس کرتا ہوں اور جتنی محنت کر سکتا ہوں اتنی کرتا ہوں۔ سپورٹ اسٹاف سے مجھے پورا تعاون ملا ہے۔ وہ میرے لیے شاندار رہے ہیں اور (ہمارے درمیان) بات چیت بھی بہترین رہی ہے۔ مجھے معلوم رہتا ہے کہ کیا چل رہا ہے اور میں اس سے بھرپور لطف اندوز ہو رہا ہوں۔
برار کے بارے میں گل نے کہا کہ اس نے زیادہ تر کسوٹیوں پر پورا اترنے کا کام کیا ہے، لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو صرف تجربے سے ہی سیکھی جا سکتی ہیں۔ امید ہے کہ وہ ایک گیند باز کے طور پر مسلسل آگے بڑھیں گے۔ اگر میں تنقیدی نظر سے دیکھوں تو انہوں نے تھوڑے زیادہ رن دیے۔ لیکن وہ نوجوان ہیں، ٹاپ لیول پر اپنی پہلی سیریز کھیل رہے ہیں اور تیز گیند بازی کر رہے ہیں۔ ایک لمبے اور تیز نوجوان گیند باز میں جو خوبیاں ہم دیکھنا چاہتے ہیں، وہ ان کے پاس ہیں۔ تجربے کے ساتھ وہ مزید بہتر ہوں گے۔
ہندوستان کے لیے ایک اور مثبت پہلو بائیں ہاتھ کے اسپن گیند باز ہرش دوبے رہے، جنہوں نے دھرم شالہ اور چنئی میں اسپن کے لیے زیادہ سازگار نہ مانی جانے والی پچوں پر بھی نپی تلی گیند بازی کی۔ انہیں بلے بازی کا موقع نہیں ملا، لیکن گل کا ماننا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ بلے سے بھی تعاون دے سکتے ہیں۔ دوبے کے نام فرسٹ کلاس کرکٹ میں نو نصف سنچریاں اور ڈومیسٹک لیول پر لمیٹڈ اوورز کرکٹ میں تین نصف سنچریاں ہیں۔
گل نے کہا کہ “ان میں آل راؤنڈر بننے کی صلاحیت ہے۔ اگر ہم آل راؤنڈرز کے پول کو دیکھیں، خاص طور پر ایسے بائیں ہاتھ کے آل راؤنڈر جو بلے بازی بھی کر سکیں، تو وہ ان میں سے ایک ہیں۔ اکشر بھائی، وہ، جڈو بھائی (رویندر جڈیجہ)… ہمارے پاس اچھا پول ہے۔ وہ ابھی بہت نوجوان ہیں اور ایسے آل راؤنڈرز کے معاملے میں یہ ضروری ہے کہ ہمیں ان پر بھروسہ ہو کہ وہ ہمارے لیے 10 اوور گیند بازی کر سکتے ہیں۔ اور اگر آخری 10 اوورز میں فی اوور سات آٹھ رن کی شرح سے 80 رن چاہیے ہوں، تو وہ ہمارے لیے وہ کام بھی کر سکتے ہیں۔








