بھوپال:16؍جون:مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو سماجی تحفظ، تعلیم، صحت، رہائش اور باعزت زندگی فراہم کرنا ریاستی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ مزدور فلاح سے متعلق تمام منصوبوں کے فوائد مستحق افراد تک بروقت اور شفاف انداز میں پہنچنے چاہئیں۔ پنچایت و دیہی ترقی اور محنت کے وزیر مسٹر پرہلاد سنگھ پٹیل نے یہ ہدایات مدھیہ پردیش غیر منظم شہری و دیہی مزدور فلاحی بورڈ، مدھیہ پردیش مزدور فلاحی بورڈ اور مدھیہ پردیش عمارت و دیگر تعمیراتی مزدور فلاحی بورڈ کے اہم اجلاس کے دوران دیں۔
وزیر مسٹر پٹیل نے کہا کہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں مزدور فلاح کے شعبے میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ نئی لیبر کوڈز مزدوروں کو نیا تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کی فلاح کے لیے قائم نظام کو مزید مضبوط بنائیں گی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ موجودہ حالات کے مطابق مزدور فلاح سے متعلق ضوابط کو زیادہ مؤثر اور عملی بنایا جائے تاکہ ملازمین اور آجر کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوں اور صنعتی ترقی کو رفتار ملے۔
وزیر محنت مسٹر پٹیل کی پہل پر مزدوروں کے بچوں کے لیے “میگھا چھاتر اْنیّن اسکالرشپ اسکیم” شروع کرنے کا اہم فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مدھیہ پردیش اور سی بی ایس ای بورڈ میں 80 فیصد یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے 100 ہونہار طلبہ کو 7,500 روپے کی اسکالرشپ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ مزدوروں کو صحت سے جوڑنے کے لیے ریاست کے 422 اداروں میں یوگا سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ برہان پور اور نرسنگھ پور میں مثالی مزدور فلاحی مراکز تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ اندور اور گوالیار میں بھی ایسے مراکز قائم کرنے کی تجویز ہے۔
miTng میں بتایا گیا کہ نئی لیبر کوڈز (اجرت، صنعتی تعلقات، سماجی تحفظ اور پیشہ ورانہ تحفظ، صحت و کام کے حالات قواعد 2026) کے ذریعے مزدوروں کو زیادہ تحفظ اور سہولیات حاصل ہوں گی۔ اس کے تحت کم از کم اجرت کا دائرہ تمام طبقات تک بڑھایا گیا ہے، زچگی کی چھٹی کو 26 ہفتے یقینی بنایا گیا ہے، اور گِگ و پلیٹ فارم ورکرز کے سماجی تحفظ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ غیر منظم مزدوروں کے علاج کے لیے جلد ایک نئی صحت امدادی اسکیم شروع کی جائے گی اور رجسٹرڈ مزدوروں کے لیے محفوظ سفری سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
تعمیراتی مزدوروں کی فلاح کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ بورڈ کی جانب سے زچگی امداد اسکیم کے تحت 190 کروڑ 84 لاکھ روپے اور ہمدردانہ امداد کے طور پر 23 لاکھ 36 ہزار روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح آیوشمان بھارت یوجنا کے تحت 92 کروڑ 95 لاکھ روپے سے زائد کی رقم منظور کی جا چکی ہے۔
میٹنگ میں منصوبوں کی بہتر نگرانی کے لیے تکنیکی جدتوں کو اپناتے ہوئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پورٹلز کا سیکیورٹی آڈٹ کرانے اور موبائل ایپلی کیشن تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزدوروں تک براہِ راست مدد پہنچانے کے لیے “شرم ساتھی یوجنا” کے تحت رضاکاروں کی تعیناتی کی جائے گی۔ نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق بھوپال کے پانچ کالجوں میں مزدور اور مہارت پر مبنی تعلیم کے پائلٹ منصوبے کا بھی آغاز کیا جائے گا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران اور اراکین موجود تھے۔









