محرم الحرام: نئے سال کا آغاز اور فکرِ آخرت کی دعوت!
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ ہر نیا سال انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی کا ایک اور باب بند ہوگیا اور عمر کا سرمایہ مزید کم ہوگیا۔ اسلامی تقویم کا آغاز ہجرتِ نبوی ﷺ جیسے عظیم الشان واقعہ سے وابستہ ہے، جو محض ایک تاریخی تبدیلی نہیں بلکہ ایمان، قربانی، استقامت اور دعوتِ دین کا دائمی پیغام ہے۔
فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت
آج امتِ مسلمہ جن فتنوں، آزمائشوں اور فکری یلغاروں کا سامنا کر رہی ہے، وہ ہمیں احادیثِ نبویہ میں مذکور ان حالات کی یاد دلاتے ہیں جن میں ایمان پر قائم رہنا ایک عظیم امتحان بن جائے گا۔ مادیت، بے دینی، اخلاقی انحطاط اور دنیا پرستی نے انسان کو اس کے اصل مقصدِ حیات سے دور کردیا ہے۔
ایسے حالات میں مسلمان کی اولین ذمہ داری اپنے ایمان، عقیدہ اور اعمال کی حفاظت ہے۔ فتنوں کے طوفان میں وہی لوگ ثابت قدم رہ سکیں گے جن کا تعلق قرآن، مسجد اور اہلِ اللہ کی مجالس سے مضبوط ہوگا۔
فتنۂ دجال سے حفاظت کا نبوی نسخہ
رسول اللہ ﷺ نے فتنۂ دجال کو انسانی تاریخ کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا ہے۔ احادیث میں اس سے حفاظت کے متعدد طریقے بیان کیے گئے ہیں، جن میں سورۂ کہف کی تلاوت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
ہر مسلمان کو چاہیے کہ جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کا معمول بنائے، اپنے اہلِ خانہ کو اس کی ترغیب دے اور اس سورت کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اس سورت کا مرکزی درس یہ ہے کہ ایمان کی خاطر ہر قربانی پیش کرنے اور دنیاوی مفادات کو حق کے مقابلے میں حقیر سمجھنے کا جذبہ پیدا کیا جائے۔
پُرفتن زمانے میں عبادت کی فضیلت
جب معاشرے میں گناہوں اور بے راہ روی کا غلبہ ہو تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور بندگی کی قدر و قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ فتنوں کے زمانے میں عبادت کا ثواب ایسا ہے جیسے کوئی شخص میری طرف ہجرت کرکے آئے۔
اسی طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والے، دین کی دعوت عام کرنے والے اور امت کی اصلاح کی کوشش کرنے والے افراد خصوصی بشارتوں کے مستحق ہیں۔
امت کی اصل ضرورت: مسجد سے مضبوط تعلق
آج امت کی سب سے بڑی ضرورت ایمان و یقین کی تجدید ہے۔ ہر محلے کی مسجد کو دینی بیداری اور اصلاحِ معاشرہ کا مرکز بنایا جائے، گھروں کو تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی سے آباد کیا جائے اور نئی نسل کو دین سے جوڑنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔
سنِ ہجری کا آغاز کیوں؟
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں جب سرکاری خطوط میں تاریخ درج کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو صحابۂ کرامؓ کے باہمی مشورے سے اسلامی تقویم کی بنیاد رکھی گئی۔
ولادتِ نبوی ﷺ، بعثت، وفات اور ہجرت—ان چار تاریخی واقعات میں غور و خوض کے بعد صحابۂ کرامؓ نے ہجرتِ نبوی ﷺ کو اسلامی تاریخ کا نقطۂ آغاز قرار دیا؛ کیونکہ ہجرت وہ فیصلہ کن مرحلہ تھا جس نے حق و باطل کے درمیان واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا اور اسلام کو ایک مضبوط اجتماعی اور ریاستی بنیاد فراہم کی۔
ہجرت: عظمت و عروج کا نقطۂ آغاز
بظاہر ہجرت مظلومیت، بے سروسامانی اور وطن سے جدائی کا واقعہ معلوم ہوتی ہے؛ لیکن حقیقت میں یہی ہجرت اسلام کی عالمی سربلندی، فتوحات اور دعوتی کامیابیوں کی بنیاد بنی۔ مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرے کی تشکیل، مسجدِ نبوی کی تعمیر اور دین کے عالمی فروغ کا آغاز اسی تاریخی واقعہ کے ثمرات تھے۔
محرم الحرام ہی سے سال کا آغاز کیوں؟
صحابۂ کرامؓ کے مشورے سے اسلامی سال کا آغاز ماہِ محرم سے مقرر کیا گیا۔ محرم زمانۂ جاہلیت میں بھی سال کا پہلا مہینہ شمار کیا جاتا تھا اور حج سے واپسی کے بعد نئے سال کے آغاز کا فطری موقع بھی یہی تھا۔ اس طرح اسلامی تقویم نے سابقہ ترتیب کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اسلامی شناخت عطا کی۔
اسلامی تقویم کا احیاء: وقت کی اہم ضرورت
قمری تقویم صرف تاریخوں کا نظام نہیں بلکہ اسلامی تہذیب، دینی شعور اور امت کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ افسوس کہ مغربی اثرات کے نتیجے میں اسلامی تاریخ کا استعمال روزمرہ زندگی سے تقریباً ختم ہوتا جارہا ہے۔
نئے ہجری سال کے آغاز پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ اپنی تحریروں، دعوت ناموں، اعلانات اور روزمرہ معاملات میں سنِ ہجری کو زندہ کریں، اس کی ترویج کریں اور اپنی نئی نسل کو اسلامی تاریخ اور اسلامی تشخص سے جوڑنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نئے سال کو محاسبۂ نفس، تجدیدِ ایمان اور اصلاحِ اعمال کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔