بھوپال:28؍اگست:ہمارا پڑوسی ملک نیپال اس وقت جس قدرتی آفت کا شکار ہے اور جن حالات سے دوچار ہے، اس پر پوری دنیا حیران و ششدر ہے۔ اس سانحے کے مختلف پہلوؤں پر لوگ اپنی اپنی گفتگو اور تجزیوں کے ذریعے اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔
نیپال میں جہاں لاکھوں، کروڑوں ڈالر کے حساب سے مالی نقصان ہوا ہے، وہیں اس سے کہیں زیادہ انسانی جانوں کا جو نقصان ہوا ہے، اس کا صحیح اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ہر طرف چیخ و پکار ہے۔ کتنے بچے یتیم ہوگئے، کتنی عورتیں بیوہ ہوگئیں اور کتنے ہی لوگ اپنے عزیزوں سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔ ہر طرف تباہی و بربادی کی ایسی داستانیں بکھری ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر اور سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
یہ تباہی و بربادی کسی ایک ملک کا المیہ نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا سانحہ ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ اس پر جتنا افسوس کیا جائے، کم ہے۔ کتنے خاندان اجڑ گئے، کتنے گھرانے تباہ ہوگئے اور کتنی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل گئیں، اس کا مکمل اندازہ لگانے میں شاید برسوں لگ جائیں، پھر بھی اس نقصان کا صحیح احاطہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اگر انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ جب بھی کسی ملک یا قوم پر اس قسم کی قدرتی آفت نازل ہوئی ہے، خواہ وہ زلزلے کی شکل میں ہو یا کسی آسمانی طوفان کی صورت میں، دنیا کے لوگ فوراً اسے انسانی بداعمالیوں کا نتیجہ قرار دینے لگتے ہیں؛ لیکن بہت کم لوگ اس موقع پر انسان کو اس کے خالق و مالک کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے ہیں، جس نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لوگ اپنے مالک اور خالق کی طرف رجوع کرتے، ایک دوسرے کے غم میں برابر کے شریک ہوتے اور جس حد تک ممکن ہوتا، مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے۔
گزشتہ زمانے میں اگر کسی محلے میں کسی کا انتقال ہوجاتا تو پورا محلہ غم میں ڈوب جاتا تھا۔ مرنے والا خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، لوگ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ یہ ہندو ہے، مسلمان ہے، سکھ ہے یا عیسائی؛ بلکہ اس وقت انسانی قدریں اور انسانیت ہر چیز پر بھاری ہوا کرتی تھی۔
اگرچہ اس دور کا انسان آج کی طرح ترقی یافتہ نہیں تھا۔ وہ نہ پرندوں کی طرح فضاؤں میں اڑ سکتا تھا اور نہ مچھلیوں کی طرح سمندروں کو چیر سکتا تھا، مگر انسانوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ چلنا ضرور جانتا تھا۔ وہ ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرتا تھا، ایک دوسرے کے آنسو پونچھتا تھا اور دوسرے انسان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھتا تھا۔ یہی وہ انسانی صفات تھیں جن سے وہ لوگ متصف تھے۔
مگر ہائے افسوس! آج کے انسان نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کائنات کو تو بڑی حد تک مسخر کرلیا، لیکن انسانی حقوق اور انسانیت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا۔
آج پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، اور اس کے ساتھ سوشل میڈیا بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ مگر ذرا غور کیجیے کہ جب آپ ان ذرائعِ ابلاغ کے نمائندوں کو اس سانحے کی کوریج کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کیا آپ کو ان کے چہروں پر واقعی اس حادثے کا غم اور افسوس محسوس ہوتا ہے؟
نیپال کے اس موجودہ الم ناک سانحے کی میڈیا کوریج پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ نہ ان کے چہروں پر غم کے آثار نمایاں ہیں اور نہ افسوس کا حقیقی احساس؛ بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ اس تباہی کو نشر کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہوں۔
اس انسانی تباہی و بربادی کو بعض اوقات اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ جو اسے زیادہ خوفناک، زیادہ سنسنی خیز اور زیادہ دل دہلا دینے والی شکل میں پیش کرے، گویا وہی وقت کا سکندر ہے!
تف ہے ایسی ترقیات پر جو انسان کو انسانیت سے دور کردیں، جو مصیبت زدہ لوگوں کے غم کو کم کرنے کے بجائے اسے مزید ہوا دیں اور انسانی درد کو محض خبر اور تماشے میں تبدیل کردیں۔
میڈیا کے بعض حلقے اگر اس روش کے عادی ہوچکے ہیں تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ میں تو ان انسانیت نواز لوگوں سے مخاطب ہوں جن کے دل میں آج بھی انسان کا درد زندہ ہے۔
اگر آپ اس وقت بھی خاموش تماشائی بنے رہے تو انسانی کشتی، جس پر ہر مذہب، ہر ملک اور ہر قوم کے لوگ سوار ہیں، کل کہاں جاکر ٹکرائے گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوگا۔ اور اگر وہ وقت آگیا تو پھر کفِ افسوس ملنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ضرورت اس وقت کی یہ ہے کہ ہم سب مل کر اہلِ نیپال کے لیے خصوصی دعائیں کریں اور جو کچھ بھی ان کی مالی، اخلاقی اور انسانی مدد کرسکتے ہوں، ضرور کریں۔
یہ میری تمام انسانی برادری سے درد مندانہ اپیل اور گزارش ہے کہ اس مشکل گھڑی میں اہلِ نیپال کو تنہا نہ چھوڑیں۔ ان کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں، ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کریں اور انسانیت کا تقاضا پورا کریں۔امید ہے کہ آپ اس درد بھری اپیل پر ضرور توجہ فرمائیں گے۔
شکریہ:
اہلِ نیپال کے اس دردناک غم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔
سید ایوب علی ندوی علیگ
اقبال میدان، بھوپال، مدھیہ پردیش، الہند