بھوپال:30؍جون:وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے “خواتین کے بااختیار بنانے اور تحفظ” کے وڑن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایم پی ٹورازم بورڈ کی جانب سے “خواتین کے لیے محفوظ سیاحتی مقام (STDW)” منصوبہ چلایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ٹورزم بورڈ میں ایک خصوصی سیشن کے دوران یو این ویمن انڈیا کی کنٹری ریپریزنٹیٹو مسز شکو ایشیکاوا نے اس منصوبے کی تربیت یافتہ طالبات سے براہِ راست گفتگو کی اور ان کے تجربات اور کامیابیوں کے بارے میں جانا۔ یو این ویمن انڈیا کی کنٹری ریپریزنٹیٹو مسز شکو ایشیکاوا نے تربیت یافتہ لڑکیوں کے اعتماد، قیادت کی صلاحیت اور مہارت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خواتین کے لیے محفوظ اور جامع سیاحت کے عالمی تصور کو عملی شکل دینے کی سمت ایک اہم مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی برادریوں کی فعال شرکت اس منصوبے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
خواتین سیاحوں کے لیے ریاست کو سب سے محفوظ بنانے کا عزم
ایم پی ٹورزم بورڈ کے ایڈیشنل منیجنگ ڈائریکٹر مسٹر ابھیئے اروند بیڈیکر نے کہا کہ ہمارا مقصد مدھیہ پردیش کو خواتین سیاحوں کے لیے ملک کا سب سے محفوظ اور حساس سیاحتی مقام بنانا ہے۔ ریاست میں تحفظ، ہنر مندی کی ترقی اور کمیونٹی کی شمولیت کی مربوط کوششوں سے خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور سیاحتی شعبہ مزید جامع بن رہا ہے۔
ہاتھ سے بنے تحائف میں خود کفالت کی جھلک
STDW منصوبے پر ہونے والی گفتگو کے دوران اس منصوبے سے وابستہ خواتین اور لڑکیوں نے اپنے ہنر کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہمانوں کو اپنے ہاتھ سے تیار کردہ دستکاری کے تحائف پیش کیے۔ ان میں ہاتھ سے بنے سووینئر، فیبرک جیولری اور فینگ شوئی آرٹ ورک شامل تھے۔ ان مصنوعات نے نہ صرف مقامی فن اور تخلیقی صلاحیت کو ظاہر کیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ یہ منصوبہ خواتین کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
میٹنگ کے دوران یو این ویمن کے وفد نے اس منصوبے کے تحت تیار کیے گئے ہنر مندی تربیتی ماڈل، کمیونٹی کی شمولیت اور خواتین کے اعتماد میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک مؤثر اور متاثر کن اقدام قرار دیا۔ اس موقع پر یو این ویمن انڈیا کی ڈپٹی کنٹری ریپریزنٹیٹو مسز کانتا سنگھ اور اسٹیٹ ریپریزنٹیٹو مسز جویاتری رائے بھی موجود تھیں۔