نئی دہلی8جولائی: لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے یو جی سی-نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے الزامات کو لے کر مودی حکومت پر شدید حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک تفصیلی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نیٹ امتحان کے بعد اب یو جی سی-نیٹ امتحان بھی سنگین بے ضابطگیوں کی زد میں آ گیا ہے، لیکن مرکزی حکومت لاکھوں طلبا کے مستقبل سے بے پروا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا کہ گزشتہ ہفتہ منعقد ہونے والے یو جی سی-نیٹ امتحان سے متعلق سامنے آنے والے الزامات انتہائی حیران کر دینے والے ہیں۔ ان کے مطابق، نیٹ پیپر لیک معاملے کے چند ہی ہفتوں بعد اب اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یو جی سی-نیٹ امتحان سے عین قبل 100 صفحات پر مشتمل ایک پی ڈی ایف گردش میں آئی، جس میں سوالات کی وہ سیٹنگ موجود تھی جو صرف نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے پاس ہوتی ہے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اس پی ڈی ایف میں موجود تقریباً 90 سوالات سماجیات کے اصل سوالنامہ سے مطابقت رکھتے تھے۔ راہل گاندھی کے مطابق یہی سوالنامہ بہار، اتر پردیش، ہریانہ، دہلی اور راجستھان میں مبینہ طور پر 2.25 لاکھ روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ کانگریس رہنما نے مزید الزام لگایا کہ اسی مبینہ نیٹورک نے آئندہ ہونے والے سی ایس آئی آر-نیٹ، ایچ ٹی ای ٹی اور اے ڈی اے سمیت دیگر امتحانات کے سوالنامے فراہم کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔









