لکھنو16اگست: ایودھیا کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد نے خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یوگی حکومت کا وقت گزر چکا ہے اور ریاست کے عوام ان سے اکتا چکے ہیں۔ ریاست کے لوگوں کا ان پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور لوگوں نے ان سے دوری اختیار کر لی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے جو اعلانات کیے جا رہے ہیں، ان میں ان کی بوکھلاہٹ نظر آتی ہے۔ ان کے اعلانات میں نہ کوئی دم ہے، نہ یقین اور نہ ہی اعتبار۔ ان کی رخصتی طے ہے۔‘‘ ایودھیا میں پجاریوں کے لیے نافذ کیے گئے ڈریس کوڈ کے حوالے سے سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر اودھیش پرساد نے کہا کہ ’’اس وقت ایودھیا میں نذرانے کی چوری کروڑوں لوگوں کی زبان پر ہے۔ کروڑوں لوگوں کی آواز ہی بھگوان شری رام کی آواز بن جاتی ہے۔ نذرانے کی چوری کے معاملے پر اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں وزیر اعظم یا وزیر داخلہ سے جواب دینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا، کیونکہ یہ ملک کے کروڑوں لوگوں کے عقیدے کا سوال ہے۔ بھگوان شری رام کی نگری ایودھیا کو بدنام کیا گیا ہے، لیکن اس معاملے پر حکومت کی جانب سے جواب دینے کی ہمت نہیں ہو پائی۔‘‘ پریانک کھڑگے کی جانب سے آر ایس ایس کے بارے میں دیے گئے بیان پر اودھیش پرساد نے کہا کہ ’’ملک کی آزادی کے لیے کون لوگ شہید ہوئے تھے، یہ سب کو معلوم ہے۔ کون لوگ انگریزوں کے ساتھ رہ کر مخبری کرتے تھے، یہ بھی سب کو معلوم ہے۔‘‘ مدھیہ پردیش میں یو سی سی کے حوالے سے اودھیش پرساد نے کہا کہ اس ملک میں مختلف نظریات، لباس، بولی-زبان اور کھانے پینے کی عادات رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ یہاں کثرت میں وحدت کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کا قانون بنانے کے معاملے میں میری رائے ہے کہ آئین کے مطابق ہی کام کیا جانا چاہیے۔ نذرانے کی چوری کے معاملے پر اکھلیش یادو کی جانب سے سوشل میڈیا پر نظم پوسٹ کیے جانے کے حوالے سے اودھیش پرساد نے کہا کہ ’’نذرانے کی چوری کے معاملے کا انکشاف تو اکھلیش یادو نے ہی کیا ہے۔
‘‘ اس انکشاف کو 2 ماہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن بی جے پی اور سنگھ کے لوگوں نے نذرانے کی چوری اور چندے کی چوری کو دبا دیا ہے۔ اس معاملے پر حکومت سے جواب مانگا جا رہا تھا، لیکن ان کے پاس جواب دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔









