پٹنہ 10اگست: دہلی کی طرح بہار میں بھی تعلیمی نظام کے خلاف آواز بلند کرنے والے طلبا و طالبات پر ظلم و بربریت کا معاملہ سامنے آیا تھا، جس سے متعلق آج ایک اہم پریس کانفرنس کانگریس کے ذریعہ منعقد کی گئی۔ اس پریس کانفرنس میں رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے کچھ ایسی باتیں سامنے رکھیں، جو کہ فکر انگیز ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بجرنگ دل، وی ایچ پی اور سادے لباس میں گھومنے والے غنڈے طالبات سے معافی منگواتے ہوئے نظر آئے، اور یہ حرکت غلط ہے۔ دراصل بہار کی راجدھانی پٹنہ اور سیوان میں مظاہرین طلبا پر ہوئی کارروائی کے بعد کانگریس نے ایک ’فیکٹ فائنڈ کمیٹی‘ بنائی تھی، جس میں پپو یادو کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ آج اس فیکٹ فائنڈ کمیٹی کے اراکین نے دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کر کئی اہم حقائق سامنے رکھے۔ پپو یادو نے خاص طور سے طالبات کے ساتھ ہوئی بدسلوکی پر افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ یہ بچیاں تعلیمی نظام میں بہتری کا مطالبہ کر رہی تھیں، ان کے ساتھ غنڈہ گردی کی گئی ہے۔ انھوں نے تعلیمی نظام میں بہتری کے حوالہ سے کہا کہ ’’حکومت کمشنری یا ضلع میں امتحان سنٹر بنائے تاکہ بچوں کا خرچ نہ بڑھے اور مصیبتیں کم ہوں۔ حکومت غریب بچوں کے لیے ایک اچھا ’آن لائن ایجوکیشن پلیٹ فارم‘ بنائے تاکہ بہتر اساتذہ اچھے سے پڑھائی کرا سکیں۔‘‘ انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ’’حکومت منظم طریقے سے ’امتحان کیلنڈر‘ جاری کرے۔‘‘ اس سے قبل بہار کانگریس انچارج شری کرشن الاورو نے میڈیا اہلکاروں کو بتایا کہ ’’بہار کے نوجوانوں پر اے کے-47 چلائی گئی۔ نوجوان گولیوں سے زخمی ہوئے، ان کا خون بہا اور خصوصاً یہ معاملہ سیوان کا ہے۔‘
‘ انھوں نے بتایا کہ بہار پولیس نے پوری ریاست میں طلبا و نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ انھوں نے سوال کیا کہ ملک میں طلبا حق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، تو ان پر بربریت کرنے کا حکم کس کے اشارے پر دیا جا رہا ہے؟ بہار میں طلبا کے ساتھ جو کیا گیا، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حکومت کی کیا منشا تھی۔ الاورو نے بتایا کہ کانگریس کی طرف سے بہار کے 6 شہروں میں 6 فیکٹ فائنڈنگ ٹیمیں بھیجی گئی تھیں، جن کا کام طلبا، نوجوانوںِ میڈیا اور انتظامیہ سے مل کر یہ پتہ کرنا تھا کہ طلبا کے ساتھ ایسی بربریت کیوں ہوئی اور کس کے کہنے پر کی گئی۔









