بارہ بنکی05نومبر (پریس ریلیز) شاعری پیغام محبت ہے اور شعراء نے ہر عہد میں اپنے کلام کی تازہ کاری سے دلوں کو جوڑنے کا پیغام دیا ہے ۔مشاعروں کے ذریعہ دیا جانے والا پیغام محبت عوام کے دلوں پر راست طور پر اثر کرتا ہے ۔اردو شاعری کا یہ اعجاز ہے کہ وہ لوگ جو اس کے رسم الخط سے بھی واقف نہیں ہیں انہیں بھی یہ اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے کیونکہ اس میں انہیں اپنے جذبات واحساسات کی خوشبو نظر آتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار دیوی نمائش کے 102ویں کل ہند مشاعرہ کا افتتاح کرتے ہوئے آلہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس قمر الحسن رضوی نے کئے۔
دیوی نمائش کے کل ہند مشاعرہ کی صدارت کے فرائض ہائی کورٹ کے جسٹس ارشاد علی نے بحسن و خوبی انجام دیے ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوفیاء کرام کی تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور ہمیں ممتاز صوفی حضرت حاجی وارث علی شاہ کی تعلیمات کو اپنے دل میں اتار کر اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔جبکہ ہائی کورٹ کے جسٹس ظفیر احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشاعرے صرف ایک رات کی کہانی نہیں ہوتے ہیں بلکہ ان سے اُردو زبان کے ساتھ مشترکہ تہذیب کو فروغ ملتا ہے ۔پروگرام کے مہمان ذی وقار سابق ریاستی وزیر اروند سنگھ نے منتظمین کو مشاعرے کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت سے تعبیر کیا ۔مشاعرہ کنوینر چودھری طالب نجیب کوکب نے پروگرام کے اغراض و مقاصد اور استقبالیہ خطبہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ دیوی نمائش کا یہ کل ہند مشاعرہ ہندوستان کا واحد مشاعرہ ہے جو گزشتہ ایک صدی سے زیادہ یعنی 102 سال سے تسلسل کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے اور یکجہتی کے پیغام کو عام کر رہا ہے ۔اس مشاعرے میں ہر عہد کے نمائندہ شعراء نے شرکت کی ہے۔
کل ہند مشاعرہ میں مشاعرہ کا یادگاری مجلہ( آبشار )اور ممتاز عالمی شہرت یافتہ استاد شاعر ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کے شعری مجموعہ (سوغات پکے رنگوں کی) کا مہمانان کے دست مبارک سے اجراء کیا گیا ۔مقررین نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی شاعری،اس کی معنویت،موضوعات کے تنوع پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کو حرف معتبر کا شاعر قرار دیا ۔مقررین نے ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کے افکار پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی وہ فنکار ہیں جو قافیہ پیمائی نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کا ہر شعر ہر مصرع کوئی نا کوئی پیغام دیتا ہے ۔یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری صرف اردو میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی تمام دستوری زبانوں میں اپنا جادو دکھارہی ہے ۔
دیوی نمائش مشاعرہ میں لکھنؤ کے کہنہ مشق شاعر واصف فاروقی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ادب ایوارڈ پیش کیا گیا ۔اس سے قبل مہمانان کا استقبال چودھری طالب نجیب کوکب،جوائنٹ سیکرٹری میلہ فواد قدوائی،ڈاکٹر فرخ حسین،چودھری وقار احمد،فضل انعام مدنی،سید محمد حارث کے ذریعہ شال مومینٹو اور گلدستہ پیش کر کے کیا گیا ۔دیر رات تک چلنے والے مشاعرہ میں شعراء نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔قارئین کے لیے شعراء کے منتخب کلام پیش خدمت ہیں ۔
ایک کاغذ پہ مرا نام پتہ بھی لکھ لو
جانے کس موڑ پہ پڑ جائے ضرورت میری
ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی
خدا پر چھوڑا دعاؤں سے گھر نہیں باندھا
سفر پہ نکلے تو رفت سفر نہیں باندھا
شکیل اعظمی
شیشہ نہیں کہ توڑ دیا جاؤں گا سنگ سے
میری شکست سوچو کسی اور ڈھنگ سے
واصف فاروقی
لوٹ کر نہیں آتا قبر سے کوئی لیکن
پیار کرنے والوں کو انتظار رہتا ہے
شبینہ ادیب
لا سکے جو تیرے جمال کی تاب
آج تک ایسا آئینہ نہ ہوا
افضل منگلوری
کمزور ہو گیا ہے ایمان اب ہمارا
خطبہ بھی چل رہا ہے چندہ بھی چل رہا ہے
عثمان مینائی
مری جانب محبت سے نہ دیکھو
محبت پر زوال آیا ہوا ہے
خورشید حیدر
اس کے علاوہ صبا بلرامپوری، سلیم صدیقی، عزم شاکری، ڈاکٹر ندیم شاد،اظہر اقبال فیض خمار وغیرہ نے اپنے بہترین کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔کل ہند مشاعرے میں ضلع جج مسز پریتما شریواستو، چودھری عشیر الدین اشرف،سرفراز حسین،فرحت اللہ قدوائی،شعور کامل،اے ڈی ایم نرنکار سنگھ،بیگم ارشاد علی،قمر حسن رضوی، اور علاقے کی دوسری اہم شخصیات موجود تھیں ۔دیوی نمائش کے کل ہند مشاعرہ کی نظامت کے فرائض ممتاز ناظم مشاعرہ ندیم فرخ نے انجام دیا اور اپنی نظامت کے منفرد انداز سے جہاں مشاعرے کے حسن کو دوبالا کیا وہیں اپنی بہترین شاعری سے بھی سامعین کو محظوظ کیا۔چودھری وقار احمد نے اظہار تشکر ادا کیا اور مشاعرہ کو آئندہ تک ملتوی کئے جانے کا اعلان کیا ۔









