بھوپال 8اکتوبر: وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش واحد ایسی ریاست ہے، جہاں صنعتوں کے قیام کے لیے کئی طرح کی سازگار سہولتیں موجود ہیں۔ جنوری 2026 میں بھوپال میں منعقد گلوبل انویسٹرس سمٹ میں موصول سرمایہ کاری کی تجاویز میں سے 30 فیصد تجاویز کو عملی شکل دی جاچکی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مدھیہ پردیش صنعت، تجارت اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے سب سے زیادہ سازگار ریاست ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو ممبئی میں ’مدھیہ پردیش میں سرمایہ کاری کے مواقع پر انٹرایکٹو سیشن‘ سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے فارما اور میڈیکل ڈیوائسز سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو مدھیہ پردیش آنے کی دعوت دی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے تمام صنعت کاروں کو جنوری 2027 میں بھوپال میں ہونے والی گلوبل انویسٹرس سمٹ میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کا تعلق ایک ماں کی دو اولاد کی طرح ہے۔ جہاں ممبئی سرمایہ کاری اور مالیاتی شعبے کی سب سے بہتر سمجھ رکھنے والا عظیم شہر ہے، وہیں مدھیہ پردیش سرمایہ کاری کے امکانات والی ریاست ہے۔ ایک مرتبہ کوئی سرمایہ کار مدھیہ پردیش آتا ہے تو اسے بھول نہیں پاتا۔ مدھیہ پردیش ہندوستان میں صنعتی سرمایہ کاری کے سب سے تیزی سے بڑھتے اور سب سے پسندیدہ مقامات میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر کے بڑے صنعتی گھرانوں نے مدھیہ پردیش کو اپنی سرمایہ کاری کی جگہ بنایا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اس سیشن میں ویل اسپن گروپ، سن فارما اور دیگر اداروں کے نمائندے موجود ہیں۔ صنعت اور کارپوریٹ دنیا کی تقریباً تمام اہم شخصیات موجود ہیں، جو بدلتے دور میں وزیراعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت کی صلاحیتوں سے واقف ہیں۔ ملک کے ساتھ تمام ریاستیں بھی آگے بڑھ رہی ہیں۔ گجرات کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ریاستوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کی بنیاد پر کس طرح آگے بڑھا جاسکتا ہے۔ مدھیہ پردیش اور گجرات کی سرحد پر بنا سردار سروور باندھ اسی کی مثال ہے۔ اس سے نہ صرف مدھیہ پردیش اور گجرات دونوں ریاستوں کو وافر مقدار میں پانی ملا بلکہ راجستھان کے مفادات کا بھی خیال رکھا گیا۔ ریاستوں کے درمیان انہوں نے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کا کام کیا۔ انہوں نے مثبت سوچ کے ساتھ کام کیا ہے۔
موجودہ وقت میں دنیا کے سامنے ہندوستان کی شناخت ایک ایسے ملک کے طور پر بن رہی ہے، جہاں عالمی سطح کے قائدین موجود ہیں۔ بدلتے دور میں ہندوستان دنیا کی مضبوط معیشت بننے کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیراعظم مسٹر مودی نے عوامی خدمت کے ساتھ ملک کو خودداری کے ساتھ جینا سکھایا ہے۔ آج ہمارا پاسپورٹ بھی دنیا میں مضبوط ہوا ہے۔ سال 2014 سے پہلے ہندوستان کہاں تھا، یہ سب جانتے ہیں۔ گزشتہ 12 سال میں کتنا بدلاؤ آسکتا ہے، یہ آج سب کے سامنے ہے۔ ملک میں جی ایس ٹی سے لے کر تجارت اور کاروبار کے تمام انتظامات کیے گئے ہیں۔ جی 20 کے عالمی گروپ میں ہندوستان اپنے اہداف پورے کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
ہندوستان بہت جلد دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنے گا۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ وزیراعظم مسٹر مودی نے ’وی وِل ڈو اِٹ‘ کا منتر دیا ہے۔ ہم دنیا میں سب کچھ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مشکلات سے نکل کر ایک مثالی زندگی گزاری ہے۔ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ 2015 سے 2025 کے درمیان ایک دہائی میں زرعی شعبے میں تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ ہندوستان کی تعمیر، اختراع، قیادت اور صلاحیت کی طاقت دنیا کے سامنے ہے۔ ہندوستان موبائل مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹر، ڈرون، ای وی، بیٹری اور سولر کے شعبوں میں اپنی شناخت قائم کرچکا ہے۔

کھیل کے شعبے کی بات کریں تو ہمارے کھلاڑی اب عالمی کھیل مقابلوں میں تمغے جیت رہے ہیں۔ حال ہی میں ایشین گیمز میں ہندوستان تمغوں کی فہرست میں چوتھے مقام پر رہا ہے۔ ایشیاڈ ہو یا اولمپکس، ہندوستان کہیں بھی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ نے واضح کردیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ ہوگا، لیکن اس میں ہندوستانی شہریوں کے خود احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ ہندوستان کی خودداری کے ساتھ عالمی تعلقات نبھانے کا ثبوت ہے۔