بھوپال:(پریس ریلیز) یومِ پیدائش سر سید احمد خان کے موقع پر اتر پردیش کے مؤناتھ بھنجن (مئو) میں منعقدہ ایک پروگرام میں سینئر علیگ ایم۔ ڈبلیو۔ انصاری، آئی پی ایس (ریٹائرڈ ڈی جی) نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سر سید احمد خان کو حقیقی خراجِ عقیدت صرف ان کی یاد میں تقریبات منعقد کرنے، تقاریر کرنے اور ان کے کارناموں کا ذکر کرنے سے ادا نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے تعلیمی مشن اور اصلاحی فکر کو عملی جدوجہد کا حصہ بنایا جائے۔ سر سید نے اپنے دور میں جس تعلیمی بیداری اور فکری انقلاب کی بنیاد رکھی تھی، آج اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو جدید تعلیم، سائنسی فکر اور وقت کے تقاضوں کو سمجھنے کی دعوت دی تھی۔ ان کا مقصد صرف تعلیمی ادارے قائم کرنا نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا باشعور معاشرہ تشکیل دینا تھا جو علم، تحقیق، دلیل اور خود اعتمادی کی بنیاد پر ترقی کرے۔ آج نئی نسل کو جدید علوم، ٹیکنالوجی، تحقیق، مسابقتی امتحانات اور روزگار کے بہتر مواقع سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور صاحبِ استطاعت افراد کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔محترم ایم۔ ڈبلیو۔ انصاری نے کہا کہ سر سید ڈے کو محض سالانہ تقریب تک محدود رکھنے کے بجائے پورے سال کے لیے ایک منظم تعلیمی و سماجی پروگرام تیار کیا جانا چاہیے۔ اسکولوں اور کالجوں میں سر سید کی فکر پر مذاکرے، طلبہ کے لیے تعلیمی و پیشہ ورانہ رہنمائی، سائنسی شعور بیدار کرنے کی سرگرمیاں اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔ ڈیجیٹل دور میں نئی نسل کو سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کی طرف راغب کرنا بھی ضروری ہے، تاکہ طلبہ میں غور و فکر، سوال کرنے اور نئی راہیں تلاش کرنے کا حوصلہ پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اعتبار سے پسماندہ علاقوں میں معیاری اسکولوں، کالجوں اور فنی تربیت کے اداروں کے قیام پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ غریب اور مستحق طلبہ کے لیے اسکالرشپ، ہاسٹل، کتابوں اور تعلیمی اخراجات کی مدد کے ساتھ مسابقتی امتحانات کی تیاری کے بہتر انتظامات کیے جائیں۔ خاص طور پر لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کو ترجیح دی جائے، کیونکہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں خواتین کی تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ تعلیم سے محروم بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام سے جوڑنے کے لیے بھی منظم کوششوں کی ضرورت ہے۔
علیگ برادری اور اے ایم یو اولڈ بوائز سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سر سید کے نام پر اجتماعات اور تقریبات منعقد کرنا اچھی بات ہے، لیکن اس سے آگے بڑھ کر اپنی علمی، پیشہ ورانہ اور مالی صلاحیتوں کو نئی نسل کی ترقی کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ مختلف شہروں اور علاقوں میں تعلیمی رہنمائی مراکز قائم کیے جائیں، مستحق طلبہ کے لیے مستقل اسکالرشپ فنڈ بنایا جائے اور علیگ برادری کے افراد کم از کم ایک طالب علم کی تعلیم، کیریئر اور روزگار کے سلسلے میں رہنمائی کی ذمہ داری قبول کریں۔ اگر ہر صاحبِ علم اور صاحبِ حیثیت شخص کسی ایک نوجوان کی تعلیمی زندگی سنوارنے کا عزم کرلے تو اس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مدارس اور عصری تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے۔ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے سائنس، کمپیوٹر، جدید زبانوں اور فنی مہارتوں کے حصول کے مواقع پیدا کیے جائیں، تاکہ وہ بدلتے ہوئے حالات میں اپنی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کر سکیں۔ اسی طرح عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ میں اخلاقی تربیت، سماجی ذمہ داری اور انسانی اقدار کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔
پروگرام میں موجود دیگر دانشوران نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سر سید احمد خان کی تحریک کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے علم اور سماجی اصلاح کے مقصد سے ایک ساتھ کام کیا۔ سر سید کے غیر مسلم دوستوں اور معاونین کی خدمات کو بھی اسی احترام کے ساتھ یاد کیا جانا چاہیے جس طرح ان کے دیگر رفقا کی خدمات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ تعلیم، ترقی اور سماجی اصلاح کے لیے مذہب اور ذات سے بالاتر ہوکر مشترکہ کوششیں کی جا سکتی ہیں۔ آج کے حالات میں اس روایت کو آگے بڑھانا، باہمی احترام، محبت اور سماجی اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ایک دوسرے مہمان گرامی قدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سر سید کی فکر صرف ایک طبقے یا برادری تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ علم، ترقی، دلیل اور انسانی فلاح کے علمبردار تھے۔ ان کے تعلیمی نظریات، تحریروں اور اصلاحی خدمات پر تحقیق کو فروغ دینے، نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی کرنے اور ان کے پیغام کو مختلف زبانوں میں نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور سماجی اداروں کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے محترم صدر مجلس نے کہا کہ سر سید احمد خان کا مشن اسی وقت آگے بڑھے گا جب ہم ان کے افکار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ سال میں ایک مرتبہ جمع ہوکر جشن منانے اور سر سید کے کارناموں کو یاد کرنے سے ان کے خوابوں کی تکمیل ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنائیں، محروم اور کمزور طبقات کے بچوں کے لیے مواقع پیدا کریں، نئی نسل کو علم و تحقیق سے جوڑیں اور نفرت کے بجائے محبت، اتحاد اور مشترکہ ترقی کی فضا قائم کریں۔ یہی سر سید احمد خان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت اور ان کے تعلیمی مشن کی اصل آبیاری ہوگی۔
پروگرام میں ایم ایل اے نفیس احمد، چیئر مین نگر پالیکا ارشد جمال، سابق چیئر مین نگر پالیکا طیب پالکی، سابق ایم پی سالم انصاری، صدر اموبا شہاب الدین انصاری وغیرہ خصوصی طور پر شریک رہے۔