بھوپال، 19 اکتوبر: کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) مدھیہ پردیش کے ریاستی صدر محسن علی خان نے بھوپال میں واقع ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی حکومت کو خواتین کے تحفظ کے معاملے پر کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں خواتین پر مظالم، عصمت دری اور چھیڑ چھاڑ کے سنگین واقعات کی اصل صورتِ حال عوام کے سامنے لائی جانی چاہیے اور حکومت کو سال 2024 کے بعد کے جرائم سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار فوری طور پر طشت از بام کر کے اپنی جوابدہی طے کرنی چاہیے۔ پریس کانفرنس میں بھوپال کے عیش باغ تھانہ علاقے سے ایک ماہ سے زائد عرصے سے لاپتہ 14 سالہ نابالغ بچی اور سوکھی سیونیا تھانہ علاقے سے لاپتہ ایک دیگر نابالغ بچی کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے، جن کی حالتِ زار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بچیوں کی بحفاظت بازیابی میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر اور پولیس کی کارکردگی پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ دونوں معاملات کو پوری سنجیدگی سے لیتے ہوئے تیز ترین کارروائی عمل میں لائی جائے اور پریشان حال متاثرہ خاندانوں کو ہر حال میں انصاف فراہم کیا جائے۔
محسن علی خان نے زور دے کر کہا کہ خواتین اور معصوم بچیوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح اور بنیادی ذمہ داری ہے، اور یہ تحفظ محض کھوکھلے دعووں سے یقینی نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اس کے لیے موثر زمینی اقدامات اور مکمل شفافیت ناگزیر ہے، لہٰذا حکومت تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر کے ریاست کو حقیقی صورتِ حال سے آگاہ کرے۔ انہوں نے حاملہ خواتین سے زیادتی کے ہولناک مقدمات پر ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس شرمناک زمرے میں مدھیہ پردیش پورے ملک میں پہلے نمبر پر ہے، جو حکومت کے امن و امان اور تحفظ کے تمام تر دعووں کی قلعی کھولتا ہے۔ انہوں نے خواتین اور کمسن بچیوں کے خلاف روز افزوں جرائم کی روک تھام کے لیے ٹھوس پالیسی اپنانے اور تمام پوشیدہ جرائم کا ڈیٹا منظرِ عام پر لا کر حکومتی احتساب یقینی بنانے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کا تحفظ اعلانات سے نہیں بلکہ نتیجہ خیز اور سخت کارروائی سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔