کانپور 19 اکتوبر (پریس ریلیز)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کی 209 ویں یوم ولادت کے موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن (اموبا) کانپور کے تحت مختلف تقاریب کا اہتمام کیا گیا ۔ان تقاریب میں تعلیم اور جدید سائنسی فکر کے ذریعے مسلم معاشرے اور ہندستان کے ساتھ ایشیائی ممالک میں انقلاب پیدا کرنے والے سر سید احمد خان کے افکار و نظریات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی اور سر سید احمد خان کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے کا عہد کیا گیا ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن اموبا کانپور کے زیر اہتمام کانپور کے چیمبر آف کامرس میں سر سید تقریب کے تحت پر وقار پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔کانپور میں اموبا کی داغ بیل چودھری ضیاء السلام نے اپنے چند روشن خیال علیگ دوستوں کے ساتھ 1982 میں ڈالی تھی ۔1987 میں سو سائٹی کا رجسٹریشن کروایا گیا،تب سے لے کر ابتک تسلسل کے ساتھ ہر سال سر سید ڈے تقریب کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔خاص بات یہ بھی ہے کہ اموبا کانپور کے زیر انتظام اناؤ اور کانپور میں سر سید پبلک اسکول کے نام سے دو اسکول بھی چلائے جاتے ہیں ۔یہ ایسا کارنامہ ہے جو ملک کے دوسرے اموبا کے لیے قابل تقلید ہے۔علی گڑھ سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے ذریعے کانپور میں گیارہ دوسرے اسکول بھی چلائے جاتے ہیں ۔
مرچنٹ چیمبر آف کامرس کانپور میں منعقدہ تقریب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر لفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ ممتاز محقق ادیب و نامور صحافی ڈاکٹر مہتاب عالم اور شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کے نیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر دیشمکھ نے بطور مہمانان ذی وقار تقریب سے خطاب کیا ۔لفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے اپنے خطاب میں مسلمانوں سے اپنی ترجیحات بدلنے،شادی بیاہ کی تقریبات میں فضول خرچی کو بند کرنے اور تعلیم کے حصول پر اپنی انکم کا پچاس فیصد خرچ کرنے کی تلقین کی ۔انہوں نے بچوں کو فوج کی سیوا میں بھیجنے پر زور دیا ۔
پروگرام کے مہمان ذی وقار ممتاز محقق و ادیب اور ملک کے نامور صحافی ڈاکٹر مہتاب عالم نے اپنے خطاب میں کہا کہ سر سید نے جدید فکر کے ذریعے نہ صرف ہندوستان بلکہ ایشیائی ممالک کے مسلمانوں کی تقدیر بدل دی۔سر سید کے سائنسی نظریات کو محور بنا کر ہی ہندوستان نے چندریان پر کمند ڈالنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔سر سید نے ہندستانیوں کو بتایا تھا کہ جب تک وہ جدید علوم کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنائیں گے تب تک وہ کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔یہی سبب ہے کہ انہوں نے غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کی بنیاد ڈالی اور ہندوستان کی ہر قوم کے انسان کو اس کا رکن بنایا ۔مہاراجہ بنارس نے اس کا سر پرست بن کر سر سید کے خواب کی حفاظت کی ۔ہمیں بھی ملک کی یکجہتی کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا ۔سر سید کے اسی یکجہتی کے نظریہ سے متاثر ہو کر آریہ سماج نے نہ صرف ان کا اعزاز و استقبال کیا بلکہ کالج کے لیے چندہ بھی دیا ۔ڈاکٹر مہتاب عالم نے اموبا کانپور کی کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے اُردو زبان کی حفاظت کے لیے قدم اٹھانے اور اپنے اجداد کی وراثت کی حفاظت کے لیے قدم اٹھانے کی تلقین کی ۔پروگرام کے دوسرے مہمان ذی وقار ڈاکٹر منیر دیشمکھ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بچوں کی ذہنی نشوونما اور تربیت پر زور دیا ۔
اس موقع پر اموبا کانپور کے سر سید نمبر کا مہمانوں کے ہاتھوں اجراء کیا گیا ۔اسی کے ساتھ مختلف میدان میں نمایاں کارکردگی کرنے والی چھ ممتاز شخصیت کو سر سید میموریل ایوارڈ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا ۔پروگرام میں بارہویں بورڈ کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی کرنے والے طلباء کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد نسیم فاروقی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
پروگرام کا آغاز حسب روایت تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا ۔اس کے بعد مہمانان کا ٹرافی دیکر استقبال کیا گیا ۔سر سید ایجوکیشن سوسائٹی کانپور کے صدر شرف الدین ایڈوکیٹ نے افتتاحی خطبہ پیش کیا ۔بعد ازاں ایس ابرار علی نے سو سائٹی کی سالانہ رپورٹ پیش کی ۔علی گڑھ پبلک اسکول باسمنڈی کانپور کے طلباء نے اے ایم یو ترانہ پیش کیا ۔نیشنل اینتھم کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا ۔اموبا کانپور کے صدر افتخار احمد کی خواہش پر احتشام چودھری نے اظہار تشکر پیش کیا ۔پروگرام کی ابتدائی حصے کی نظامت کے فرائض راشد علیگ نے انجام دیے جبکہ باقی پروگرام کی نظامت کے فرائض دہلی کے ممتاز ٹی وی اینکر علی عادل خان نے بحسن و خوبی انجام دیا ۔