15 اگست 1947 بھارت کی تاریخ کا وہ روشن دن ہے جب تقریباً دو صدیوں پر محیط غلامی کا خاتمہ ہوا اور ملک نے آزادی کی نئی صبح دیکھی۔ ہر سال اس موقع پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور آزادی کے ان گنت ہیروز کو یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ تحریکِ آزادی کی تاریخ کو اس انداز میں پیش کیا جانے لگا ہے کہ کئی ایسی عظیم شخصیات، جنہوں نے انگریز سامراج کے خلاف سب سے پہلے علمِ بغاوت بلند کیا، نئی نسل کی نگاہوں سے اوجھل ہوتی جا رہی ہیں۔
آزادی کی تاریخ کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی محض ایک تجارتی ادارہ بن کر نہیں آئی تھی بلکہ اس کا مقصد پورے برصغیر پر قبضہ کرنا تھا۔ اس خطرے کو سب سے پہلے جن لوگوں نے محسوس کیا اور اس کے خلاف تلوار اٹھائی، ان میں سر فہرست اورنگزیب تھے جنہوں نے 1686میں انگریزوں کو بھارت چھوڑنے کے لئے آواز بلند کی اور ان کے بعد نواب سراج الدولہ، سلطان فتح علی خان ٹیپو سلطان اور بعد ازاں بہادر شاہ ظفر کا نام نمایاں ہے۔ اگر ان عظیم مجاہدین نے اپنے اپنے دور میں انگریزوں کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے سامنے مزاحمت نہ کی ہوتی تو غلامی کا دور کہیں زیادہ طویل اور تباہ کن ثابت ہوتا۔
نواب سراج الدولہ محض بنگال کے حکمران نہیں تھے بلکہ وہ ان اولین رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سیاسی عزائم کو سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے انگریزوں کی غیر قانونی قلعہ بندی، تجارتی فائدے کے ناجائز استعمال اور مقامی سیاست میں مداخلت کی سخت مخالفت کی۔
1757 کی جنگ صرف ایک فوجی جنگ نہیں بلکہ برصغیر کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا واقعہ تھی۔ اگر میر جعفر اور دیگر عناصر کی غداری نہ ہوتی تو شاید انگریزوں کو یہاں اقتدار حاصل کرنے کا موقع ہی نہ ملتا۔ سراج الدولہ کی شکست دراصل ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے بھارت کی سیاسی خودمختاری کی شکست تھی۔ تاہم ان کی مزاحمت نے یہ پیغام دیا کہ غلامی قبول کرنے کے بجائے عزت کے ساتھ لڑنا ہی قوموں کا شیوہ ہے۔
اگر برصغیر کی تاریخ میں انگریزوں کا سب سے مضبوط اور باصلاحیت مخالف تلاش کیا جائے تو سلطان فتح علی خان ٹیپو سلطان کا نام اولین صف میں آتا ہے۔ انہوں نے انگریزوں سے بڑی بڑی جنگیں لڑیں اور ہر مرتبہ سامراجی عزائم کو سخت نقصان پہنچایا۔ جب ان کے سامنے اقتدار بچانے کے بدلے انگریزوں کی اطاعت قبول کرنے کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے غلامی پر موت کو ترجیح دی۔ ان کا یہ تاریخی قول آج بھی ہر آزادی پسند انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے:
’’شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘۔
ان کی شہادت نے برصغیر کے عوام کو یہ سبق دیا کہ وطن کی آزادی ہر قیمت سے بڑھ کر ہے۔1857 کی جنگ آزادی برصغیر کی تاریخ کا ایک ایسا فیصلہ کن باب ہے جس میں مذہب، ذات، زبان اور علاقے کی تفریق پسِ پشت ڈال کر لڑائی لڑی گئی تھی۔ اس عظیم جدوجہد میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور مختلف ذاتوں و طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے انگریز سامراج کے خلاف کندھے سے کندھا ملا کر مزاحمت کی۔ سپاہی ہوں یا کسان، علماء ہوں یا سادھو سنت، راجے مہاراجے ہوں یا عام شہری، سب کے سامنے ایک ہی مقصد تھا کہ بیرونی اقتدار سے نجات حاصل کی جائے اور اپنے وطن کی آزادی اور خودمختاری کو بحال کیا جائے۔ میرٹھ سے دہلی، کانپور سے لکھنؤ اور جھانسی سے بہار تک بغاوت کی چنگاریاں پھیلتی گئیں اور مختلف علاقوں کے لوگوں نے اپنی بساط کے مطابق اس جدوجہد میں حصہ لیا۔ بہادر شاہ ظفر کو اس تحریک کی علامت اور سربراہ تسلیم کیا جانا بھی اسی قومی اتحاد کی ایک بڑی مثال تھا، کیونکہ ان کی قیادت میں مختلف مذہبی اور سماجی طبقات کے لوگ ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد ہوئے۔
1857 کی یہ جدوجہد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ آزادی کسی ایک مذہب، ذات یا طبقے کی میراث نہیں بلکہ سب کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے جس کا جیتا جاگتا ثبوت دہلی کا ’’انڈیا گیٹ‘‘ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دہلی میں کھڑی تاریخی عمارتیں، یادگاریں، توپیں، قلعے اور مختلف مقاماتِ جنگ اس دور کی گواہی دیتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ 1857 کے اس مشترکہ قومی جذبے کو یاد رکھا جائے اور نئی نسل کو بتایا جائے کہ بھارت کی آزادی کی بنیاد اختلافات پر نہیں بلکہ اتحاد، قربانی اور مشترکہ جدوجہد پر استوار ہوئی تھی۔
اگرچہ اس وقت ان کے پاس نہ مضبوط فوج تھی اور نہ ہی مالی وسائل، لیکن انہوں نے اس تاریخی ذمہ داری کو قبول کیا۔ انگریزوں نے بغاوت کو کچلنے کے بعد ان کے بیٹوں کو بے رحمی سے قتل کیا، خود بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کرکے رنگون جلا وطن کر دیا، جہاں ایک عظیم بادشاہ انتہائی کسمپرسی میں دنیا سے رخصت ہوا۔ ان کا یہ شعر صرف ایک شاعر کا درد نہیں بلکہ غلام ملک کی پوری تاریخ کا نوحہ ہے:
’’کتنا ہے بد نصیب ظفر، دفن کے لیے ، دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں‘‘
تحریکِ آزادی کی تاریخ علماء کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ 1857 کی جنگِ آزادی میں متعدد علماء نے انگریز حکومت کے خلاف جہادِ آزادی کے فتاویٰ جاری کیے، عوام کو منظم کیا، میدانِ جنگ میں حصہ لیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
مولانا فضلِ حق خیرآبادی، مولانا احمد اللہ شاہ فیض آبادی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی،مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، شیخ الہند مولانا محمودالحسن دیوبندی، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا حسرت موہانی، مولانا ابوالکلام آزاد اور بے شمار دیگر علماء نے آزادی کی تحریک کو فکری، سیاسی اور عملی قوت عطا کی۔برطانوی حکومت نے کئی علماء کو پھانسی دی، سینکڑوں کو کالاپانی بھیجا، بے شمار لوگوں کو قید و بند اور جلاوطنی کی سزائیں دیں۔ متعدد تاریخی روایات میں لاکھوں مسلمانوں اور تقریباً پانچ لاکھ علماء کی شہادت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ علماء نے تحریکِ آزادی میں اپنی جانوں، مدارس، خانقاہوں اور ہر طرح کے وسائل کی بے مثال قربانیاں پیش کیں۔
جب جب تحریک آزادی کی بات ہوگی تب تب اس پیاری اور شیریں زبان کا تذکرہ لازمی ہوگا جس نے پورے بھارت کو آپس میں محبت کے دھاگے میں باندھے رکھاجسے ہم اور آپ اُردو زبان کہتے ہیں۔آزادی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی تو اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ عوامی بیداری کا مؤثر ذریعہ بن چکی تھی۔ اسی زبان میں انقلابی شاعری لکھی گئی، اخبارات شائع ہوئے، سیاسی مضامین لکھے گئے اور غلامی کے خلاف شعور پیدا کیا گیا۔
مولانا محمد باقر ہو،مولانا ابوالکلام آزاد ہو، مولانا محمد علی جوہر ہو،یا مولانا ظفر علی خان ہو سب نے اپنے اپنے اخبارات اور رسائل کے ذریعہ نوجوانوں میں آزادی کا جذبہ پیدا کیا۔حسرت موہانی نے ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ دیا، یوسف مہر علی نے ’’بھارت چھوڑو ‘‘ کا نعرہ دیا، عابد حسن صفرانی نے ’’جئے ہند‘‘ کا نعرہ دیا، اکبر الٰہ آبادی، جوش ملیح آبادی نے انقلابی ولولہ پیدا کیا، علامہ اقبال نے خودی اور حریت کا پیغام دیا، اوربرج نارائن چکبست سمیت بے شمار شعراء نے اردو کو آزادی کی تحریک کی زبان بنا دیا۔ یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہیں ہوگا کہ اگر اردو صحافت، اردو شاعری اور اردو ادب نہ ہوتا تو آزادی کی تحریک عوام کے دلوں تک اس قوت کے ساتھ نہ پہنچ پاتی۔
جب جب بھارت کی آزادی کی تاریخ کو پڑھا، سنا اور بولا جاتا ہے تب تب ایک نام زبانوں پر ضرور آجاتا ہے اور وہ نام ہے بخت میاں انصاری عرف بطخ میاں انصاری کا ۔آزادیٔ بھارت کی تاریخ میں بخت میاں انصاری کا نام بھی عزت سے لیا جانا چاہیے۔ 1917 کی چمپارن ستیہ گرہ کے دوران انہوں نے مہاتما گاندھی کا ساتھ دیا اور اس وقت ان کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا جب گاندھی جی کو جان خطرہ لاحق تھا۔ بخت میاں انصاری کی یہ قربانی اس بات کی روشن مثال ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں ہر انسان نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کیا۔ اگر اس موقع پر بخت میاں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر گاندھی جی کی جان نہ بچائی ہوتی تو تحریکِ آزادی کی سمت اور رفتار پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے تھے اور ممکن ہے آزادی کی منزل مزید دور ہو جاتی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ آزادی کی تاریخ کو مکمل دیانت داری کے ساتھ نئی نسل کے سامنے رکھا جائے۔ نصابی کتابوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور سماجی پلیٹ فارمز پر ان تمام شخصیات کو وہ مقام دیا جائے جنہوں نے اس ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔سراج الدولہ کی جرأت، ٹیپو سلطان کی غیرت، بہادر شاہ ظفر کی استقامت، علماء کی قربانیاں اور اردو کی فکری جدوجہد، سب مل کر بھارت کی آزادی کی عظیم داستان تشکیل دیتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک باب کو نظر انداز کرنا دراصل تاریخ کے ساتھ تو ناانصافی ہوگی ہی بھارت اور بھارت کے تمام باشندوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہوتی۔
15 اگست صرف جشنِ آزادی نہیں بلکہ عہدِ وفا کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی ہمیں ورثے میں نہیں ملی بلکہ لاکھوں قربانیوں، بے شمار آنسوؤں اور ان گنت شہادتوں کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ آئیے اس یومِ آزادی پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنے ان تمام مجاہدینِ آزادی، علماء، ادباء، صحافیوں اور قومی رہنماؤں کی یاد کو زندہ رکھیں گے، نئی نسل کو ان کی قربانیوں سے روشناس کرائیں گے اور اتحاد، انصاف، تعلیم اور قومی یکجہتی کے ذریعے اس آزادی کی حفاظت کریں گے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی ایک مضبوط، باشعور اور باوقار بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔