واشنگٹن 18اگست: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعوی کرکے سب کو چونکا دیا تھا کہ پاسدران انقلاب کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔ لیکن اگلے ہی لمحے پاسداران انقلاب نے ان کے دعوے کی قلعی کھول دی ۔ ایران کے پاسدران انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بات چیت کے دعوے کو سرے سے خارج کردیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے زور دے کر کہا کہ امریکیوں سے بات چیت نہیں ہورہی، ان کے پاس شکست ماننے اور شرائط قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ترجمان پاسداران انقلاب بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کا کہنا ہے کہ امریکیوں سےکسی قسم کی بات چیت نہیں ہورہی، سفارتی معاملات وزارت خارجہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہیں۔ ترجمان پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکہ سے سفارتی ذرائع کے ذریعے بھی کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، سفارتی بات چیت کا فقدان امریکہ کی جانب سے وعدہ خلافیوں کا نتیجہ ہے۔ بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات تیل قیمتوں کو عارضی طور پر کنٹرول کرنے کی کوشش ہے، امریکی صدر کے خیالی تصورات میدانِ جنگ میں ان کی مدد نہیں کریں گے۔ترجمان پاسداران نے کہا کہ امریکہ کے پاس واحد راستہ شکست تسلیم کرنا اور ایرانی شرائط قبول کرناہے۔ وہیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران فاتح بن کر ابھرا ہے۔ دشمن کی غیر مشروط ہتھیار ڈالوانے کی امید پوری نہ ہوسکی۔تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے بھرپور طاقت کے ساتھ جنگ لڑی اور اسی قوت کے ساتھ مذاکرات کیے۔









