بھوپال:23اکتوبر:آج نماز جمعہ سے قبل قاضی شہر مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ ننے موتی مسجد بھوپال میں بندگان خدا کی کثیر جماعت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایمان جیسی دولت سے نوازا اور ہمارے لئے ہادی و رہبر ایسی شخصیت کو منتخب کیا جو امام الانبیاء و رسل ہے۔اس طرح اللہ وحدہٗ لاشریک نے ہم پر ایک ساتھ دو عظیم احسان کر کے ہمیں سابقہ امم پر ممتاز کردیا،ظاہر ہے جب امت محمدیہ کا مقام سابقہ امم سے ممتاز و بلند ہے تو شریعت محمدیہ بھی سابقہ جملہ شرائع سے اعلیٰ،افضل اور باکمال ہے ۔اس دنیا میں ہم اور آپ چند روز کیلئے ہی آئے ہیں ،گویا مسافر ہیں ،چند دنوں کے قیام کے بعد ہمیں اس دنیا کو چھوڑ کر ایسی دنیا میں جانا ہے جہاں ہمیں دائمی قیام کرنا ہے ۔دنیا کے تمام مذہب میں اسلام ہی واحد مذہب ہے جو ہمیں آخرت کی تیاری کیلئے زریں اصول و ضوابط سے آگاہ کرتا ہے،ہماری زندگی کا ایسا کوئی گوشہ نہیں جس پر اسلام نے روژنی نہ ڈالی ہو اور ہماری خاطر خواہ رہنمائی نہ کی ہو۔فرائض و واجبات کو جہاں کھول کھول کر بیان کیا گیا ،فضائل کابھی کوئی باب ایسا نہیں جسے تشنہ رکھا گیا ہو۔ایک ایک عمل جو اللہ کی رضا کیلئے ہو ،اس کی فضیلت کھول کھول کر بیان کی گئی تاکہ بندہ اللہ کا مقرب و مقبول بندہ بن جائے ۔میں نے گزشتہ کئی جمعہ اپنے اپنے خطاب میں حقوق انسانی (والدی،اولاد،میان بیوی اور پڑوسی کے حقوق بیان کئے ،آج میں مہمان نوازی کے فضائل پر بات کرنا چاہتا ہوں ۔ حاضرین مسجد !موجودہ نظامِ تمدن میں اگرچہ مہمان نوازی کی ذمہ داری ہوٹلوں اور ریستورانوں نے اپنے سر لے لی ہے ‘مگر گزشتہ نظامِ تمدن میں اس کی اہمیت مسلّم تھی اور اب بھی مہمان نوازی مشرقی تمدن کے خمیر میں داخل ہے۔ ہر انسان کسی نہ کسی وقت کسی کا مہمان ہوتا ہے ‘اس لئے ہماری سوسائٹی میں اس کی حیثیت مبادلہ اخلاق کی صورت اختیار کر گئی ہے اورمہمان نوازی صرف کاروباری مراسم ‘رشتے داری نبھانا ‘شادی بیاہ میں رسماً دعوت پر بلاناوغیرہ کی حد تک محدود ہو گئی ہے۔ اگرچہ گزشتہ مذاہب کی اخلاقی تعلیمات میں مہمان نوازی کاذکر موجود نہیں ہے ‘ لیکن اہل عرب میں مہمان کابہت بڑا حق سمجھا جاتا تھا اور مہمان کی خدمت اور حفاظت میزبان اپنا فرض سمجھتا تھا ‘ اسلام آنے کے بعد اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
قرآن کریم میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے مہمانوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے:
’’(اے پیغمبر !) کیا ابراہیم کے معزز مہمانوں کا واقعہ آپ تک پہنچا ہے ؟ جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کہا۔ ابراہیم نے بھی سلام کہا۔ (اور دل میں سوچا کہ) یہ کچھ انجان لوگ ہیں۔پھر چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا سا بچھڑا لے آئے۔تو اسے ان مہمانوں کے سامنے رکھااورکہنے لگے : کیا آپ لوگ کھاتے نہیں۔ اس سے ابراہیم نے ان کی طرف سے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ انہوں نے کہا : ڈریئے نہیں‘ اور انہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دی جو بڑا عالم ہوگا۔ ‘‘( الذّٰرِیٰت)
اس واقعہ سے مہمان نوازی کے متعلق چند آداب ملتے ہیں ۔
(۱) مہمان اور میزبان میں کلام کی ابتدا سلام سے ہونی چاہئے۔
(۲) مہمان کے کھانے کا فوری انتظام کرنا چاہئے۔
(۳) مہمانوں کے کھانے پینے کا سامان مخفی طور پر نگاہ بچا کر کرنا چاہئے ‘کیوں کہ اگر مہمانوں کو معلوم ہو جائے تو ازراہِ تکلف وہ اس کو روکیں گے۔
(۴) مہمانوں کے سامنے عمدہ سے عمدہ کھانا پیش کرنا چاہئے ۔
(۵) مہمانوں سے نہ کھانے کی وجہ انتہائی ادب کے ساتھ پوچھنی چاہئے۔
(۶) اگر آپ کسی کے مہمان ہیں اور کسی وجہ سے نہیں کھانا چاہتے تو عمدہ الفاظ میں عذر پیش کریں۔
ہمارے یہاں بالخصوص شہری معاشرے میں مہمان کی آمد پر ناگواری محسوس کی جاتی ہے۔ جب کہ رسول اللہﷺ نے مہمان کا اکرام ایمان کا حصّہ قرار دیا ہے۔ البتہ ’’کسی مہمان کیلئے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے پاس اس حد تک ٹھہرے کہ اسے گناہ گار ہی کردے‘‘۔صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا :یا رسول اللہ ! وہ اسے گناہ گار کیسے کرے گا؟ آپ نے فرمایا :’’وہ اس کے پاس ٹھہرے حالانکہ اس کی مہمان نوازی کے لئے اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔‘‘
جان لیجئے کہ مہمان نوازی کرنا نہ صرف بو الانبیاء حضرت ابراہیم کی سْنّت ہے بلکہ نبی آخرالزماں حضرت محمد عربی ﷺ کی تعلیمات مبارکہ میں بھی اس پر خاص زور دیا گیا ہے۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ مگر افسوس !آج کے معاشرے میں جہاں سنت اور احکامِ الٰہیہ کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے وہیں مہمان نوازی اور بالخصوص کھانا کھلانے کی سنت کو بھی ترک کر دیا گیا ہے۔ خاص طور پرشہری معاشرہ تو مہمان نوازی گویا جانتا ہی نہیں۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ رزق میں برکت ختم ہو گئی ہے اور تنگ دستی کا رونا ہر خاص و عام کی زبان پر جاری ہے۔برکت لانے والے اعمال میں سے مہمان نوازی ایک مستقل سبب تھا لیکن اسے بھی ترک کردیا گیا۔
مہمان کی تواضع اپنی حیثیت کے مطابق کرنی چاہئے‘ مگر اب تکلّفات کی وجہ سے مہمان نوازی کو بوجھ سمجھا جانے لگا ہے۔ چنانچہ اب عمومی طرزِعمل یہ بن گیا ہے کہ یا تو عمدہ کھانا پیش کرو یا مہمان نوازی ہی چھوڑ دو۔آج کل یہ عمل کثرت سے دیکھا جاتا ہے کہ کوئی صاحب ثروت ہمارے گھر آیا تو اس کیلئے ہم خوب اہتمام کرتے ہیں ،انواع و اقسام کے کھانے دستر خوان پر چن دیتے ہیں مگر جب کوئی غریب ہمارے گھر مہمان بن کر آتا ہے خواہ وہ ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اس کیلئے ہمارا دستر خوان سمٹ جاتا ہے۔
ایسا کیوں ؟ کیا ہم مہمان کی خاطر تواضع اس کی رضا اور نام و نمود کیلئے کرتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کیلئے ؟ ایک فضیلت والا کام ہم نے کیا ،خرچ بھی دل کھول کر کیا مگر اپنی نیت رضائے الٰہی سے ہٹا کر مہمان کی خوشنودی کی طرف کرلی ،آپ بتائیں اس عمل کا اللہ کے یہاں ہمیں کیا بدلہ ملے گا؟اسلام نے اعمال حسنہ کا محور و مرکز نیت کو بنایا ہے ،’’جیسی نیت ویسی برکت‘‘ یہ مقولہ تو آپ لوگ آئے دن سنتے ہیں۔لہذا ہمیں جو بھی نیل عمل کرنا ہے ہم اس کا تعلق اللہ وحدہٗ لاشریک سے جوڑیں تو وہ عمل ہمارے لئے مفید ہوگا ورنہ سب بیکار،بے سود اور بے نتیجہ ہے ۔رب کریم ہمیں مخلص ہوکر ہر کام کرنے کی توفیق بخشے ۔









