حیدرآباد17جون: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے بدھ کو رنگا ریڈی ضلع کے ارتلا میں جدید ترین سہولیات سے لیس ریاستی حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے ’تلنگانہ پبلک اسکول‘ (ٹی پی ایس) کا افتتاح کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے ہر اسمبلی حلقے میں ایک ٹی پی ایس قائم کیا جائے گا۔ یہ اسکول طلبہ کو کھیلوں کی تربیت بھی دیں گے تاکہ مستقبل میں ہندوستان کے باصلاحیت کھلاڑی تیار ہو سکیں۔ اس موقع پر ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کا مستقبل کلاس رومز میں پوشیدہ ہے۔ تلنگانہ کا مستقبل شیشے سے سجائے گئے محلوں یا رنگین دیواروں میں نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے 15 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے ارتلا ٹی پی ایس کو تلنگانہ کے تمام سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے نام منسوب کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسی جذبے کو ریاست کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم 27 لاکھ طلبہ کے فائدے کے لیے آگے بڑھایا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے اسکول کے احاطے کا دورہ کر کے ڈیجیٹل کلاس رومز، لائبریری، لیبارٹریوں، جدید باورچی خانے اور ڈائننگ ہال کا معائنہ کیا اور طلبہ کے ساتھ ناشتہ بھی کیا اور طلبہ کے ساتھ فٹ بال بھی کھیلا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم ایجوکیشن کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر سرکاری اسکولوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ ارتلا تلنگانہ پبلک اسکول میں 1814 طلبہ پہلے ہی داخلہ لے چکے ہیں۔ یہ فخر کی بات ہے کہ داخلے کے لیے سخت مقابلے کو دیکھتے ہوئے ایک سرکاری اسکول میں ’داخلہ بند ہے‘ کا بورڈ لگانا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کارپوریٹ تعلیمی اداروں کا مقابلہ کرنے پر ارتلا ٹی پی ایس کے اساتذہ کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ باصلاحیت طلبہ کو آگے لانے کے مقصد سے حکومت نے سرکاری اسکولوں کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تلنگانہ پبلک اسکولوں کا قیام نظر انداز کیے گئے تعلیمی نظام کو دوبارہ فعال کرنے کی ایک نیک کوشش ہے۔ وزارت تعلیم کا قلمدان بھی سنبھالنے والے ریونت ریڈی نے بتایا کہ حکومت تعلیم پر ہر سال 27000 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے۔