بھوپال، یکم ؍ستمبر: راجدھانی بھوپال کے رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کے خلاف میونسپل کارپوریشن کی متنازع سیلنگ مہم کے خلاف تاجر برادری سڑکوں پر اتر آئی ہے، جس کے تحت منگل کے روز تقریباً 4 گھنٹے تک شدید احتجاج اور نعرے بازی کی گئی۔ صبح 11 بجے بھوپال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے بینر تلے سینکڑوں تاجر نیو مارکیٹ سے نکل کر چیف منسٹر ہاؤس کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے، تاہم روشن پورا چوراہہ سے قبل پولیس نے بیریکیڈنگ لگا کر مظاہرین کو روک دیا۔ آگے بڑھنے کی کوشش کے دوران پولیس اور تاجروں کے مابین شدید ہاتھا پائی ہوئی اور دھکم پیل میں چند تاجر زمین پر گر گئے، لیکن کوئی زخمی نہیں ہوا۔ تاجروں نے آمرانہ رویے اور کارروائی کے خلاف شدید نعرے بازی کی، جب کہ حکومت کو خیر خواہی اور ہوش کے ناخن دلانے کے لیے سنکھ، ڈمرو اور تھالیاں بجا کر انوکھا احتجاج درج کروایا۔ اس دوران ایک تاجر مہاتما گاندھی کے روپ میں بھی پہنچا، جبکہ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) اکھل پٹیل ای رکشا پر چڑھ کر تاجروں کو سمجھاتے رہے، مگر مظاہرین وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور ایس ڈی ایم کو میمورنڈم دینے سے صاف انکار کر دیا۔ بالآخر تقریباً 4 گھنٹے بعد ایس ڈی ایم ارچنا شرما کی جانب سے مثبت کارروائی کی یقین دہانی پر چیمبر کے صدر گووند گوئل اور جدوجہد کمیٹی کے صدر آنند سونی نے تاجروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا، تاہم بیشتر دکانداروں نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہیں تسلیاں نہیں بلکہ سیلنگ مہم کا فوری خاتمہ چاہیے۔
دوسری جانب مظاہروں کے متوازی میونسپل کارپوریشن کا عملہ شہر کے مختلف علاقوں میں مہم جاری رکھے ہوئے تھا۔ بلدیاتی ٹیم نے کوہِ فضا میں چائے لیلا کیفے، ہوٹل، بک شاپ اور بیکری کے خلاف کارروائی کی، جبکہ بیراگڑھ کے چنچل چوراہہ پر ہوٹل پیسٹیسائیڈ، شیک بار، اقبال میدان میں سویٹ بک اور کروند میں فریش بیک کو بند کروایا گیا جہاں مالکان نے احتجاجاً دکانیں بند رکھنے کے پوسٹر چسپاں کر رکھے تھے؛ یاد رہے کہ اس سے قبل پیر کے روز بھی پولیس کی نگرانی میں 7 ادارے سیل اور 109 دکانیں بند کروائی گئی تھیں۔ بھوپال تاجر مہاسنگھ جدوجہد کمیٹی کے صدر آنند سونی اور بھوپال چیمبر آف کامرس کے صدر گووند گوئل نے میونسپل کارپوریشن کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی نااہلی کے سبب بھوپال کا کاروبار تباہ ہو رہا ہے اور تاجر پولیس کی لاٹھیاں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے 12 اگست کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کو اپنے جغرافیائی حالات کے تحت فیصلہ لینے کا اختیار حاصل ہے، لہٰذا فوری طور پر نیا ماسٹر پلان نافذ کیا جائے یا مکس لینڈ یوز کی سہولت دی جائے۔ تاجر رہنماؤں نے انتباہ دیا کہ تاحال صرف 10 فیصد تاجر سڑکوں پر آئے ہیں، اور اگر بلا تفریق کارروائی بند نہ کی گئی تو پورا شہر جام کر کے غیر معینہ مدت کے لیے مکمل ہڑتال کی جائے گی۔









