دہلی:02؍جولائی:(پریس ریلیز) حضرت مولاناسید سلمان حسینی ندویؒ کی رحلت سے سانحہ ارتحال کی خبرنے دینی ع، علمی اورفکری حلقوں کو سوگوار کردیاہ۔ وہ ان شخصیات میں تھے جن کاتعارف کسی ایک منصب یاایک شعبہ سے نہیں کرایاجاسکتا۔ ان کی ذات علم وتحقیق ، دعوت واصلاح، تدریس وتربیت اورملت کی فکری رہنمائی کا ایک ایاس جامع عنوان تھی جن نے کئی دہائیوںت ک ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کی علمی منظرنامے پراپنے نقوش ثبت کئے۔ یہی وجہ ہے ان کی رحلت کو ہرطرف ایک ایسے خلاسے تعبیرکیاجارہاہے جسے پُر کرناآسان نہیں ہوگا۔
مولانامرحوم کی شخصیت میں علم کی گہرائی ، فکر کی وسعت اوراظہار کی غیرمعمولی صلاحیت یکجاہوگئی تھی۔ وہ بہ یک وقت صاحب قلم بھی تھے اورصاحب زبان بھی۔ ان کی تحریروں میں استدلال کی مضبوطی اورخطابت میں تاثیر کی ایسی کیفیت تھی جوسننے اورپڑھنے والے کو سوچنے پر مجبور کردیتی تھی۔ وہ معاملات کو سطحی انداز میں دیکھنے کے بجائے ان کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔ اورجب کسی مسئلے پر اپنی رائے قائم کرلیتے تو اسے پوری دیانت اوربے باکی کے ساتھ پیش کرتے۔ خواہ اس پر اختلاف ہی کیوں نہ ہو، یہی علمی جرأت ان شناخت بن گئی تھی۔ تعلیم اورتربیت کامیدان ان کی زندگی کاسب سے روشن باب تھا۔ انہوں نے جس اخلاص اوربلندحوصلوں کے ساتھ دینی تعلیم کے فروغ کے لئے اپنے ادارے کو پروان چڑھایا۔ اورنوجوان نسل کی فکری اخلاقی اوردینی تربیت کو اپنی زندگی کامشن بنایا۔ وہ آنے والے اہل علم کے لئے ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔ مولاناسلمان حسینی ندویؒ کی خدمات صرف ان کی تصانیف یاخطابت تک محدود نہیں رہیں،بلکہ بان کے ہزاروں شاگرد ان کے قائم کردہ علمی ادارے اوران کے چھوڑے ہوئے فکری نقوش ان کی زندگی کے ایسے آثار ہیں جومدتوں اہل علم کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ بہت کم اہل علم کویہ سعادت نصیب ہوتی ہے کہ ان کی زندگی میں بھی ان سے استفادہ کیاجائے اوران کے بعد بھی ان کاعلمی سرمایہ نسلوں کے لئے مشعلِ راہ بن جائے۔ مولانامرحوم یقینا انہیں خوش نصیب شخصیات میں شامل تھے۔ یہ بھی حیقیقت ہے کہ ایسے اہل علم کاانتقال صرف ایک خاندان یاایک ادارے کانقصان نہیں ہوتا،بلکہ پوری علمی روایت اس سے متاثرہوتی ہے۔آج جب سنجیدہ فکر عمیق مطالعے اور ہمہ گیر علمی شخصیت رکھنےو الے افراد کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے، مولانامرحوم کی جدائی کااحساس اوربھی زیادہ گہراہوجاتاہے۔ ان کی موجودگی اہل علم کے لئے اعتماد کاباعث تھی اوران کی رائے کو مختلف حلقوں میں توجہ سے سناجاتاتھا۔ زندگی اورموت کافیصلہ بہرحال اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے، لیکن دل یہ ضرور محسوس کرتاہے کہ اگرمولاناسلمان حسینی ندویؒ کچھ عرصہ اورہمارے درمیان رہتے تو امت ان کے وسیع مطالعے ،گہرے تجربے اورفکری بصیرت سے مزید فیضیاب ہوتے۔ تاہم اللہ تعالی اپنے بندوں سے جس وقت اورجس انداز میں خدمت لیتا ہے اسی میں اس کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔اللہ رب العزت سے دعاہے کہ حضرت مولاناسید سلمان حسینی ندویؒ کی کامل مغفرت فرمائے ان کے درجات بلندسے بلند ترکرے ، ان کی علمی ،دینی اورتعلیمی خدمات کو صدقہ جاریہ بنائے اوران کے اہل خانہ تلامذہ،متعلقین اورعقیدت مندوں کوصبرجمیل عطافرمائے۔









