نئی دہلی 17جولائی: سپریم کورٹ نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ شہریت کا تعین کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں ہے۔ مغربی بنگال کے ایس آئی آر تنازعہ پر جمعہ کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ کمیشن کا اختیار صرف ووٹر فہرست کے کنٹرول اور نگرانی تک محدود ہے۔ اس لیے قانونی صورت حال میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ٹریبونل کسی شخص کا نام ایس آئی آر فہرست میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ سناتا ہے تو الیکشن کمیشن کو شہریت کے تعین کے لیے معاملہ متعلقہ وزارت کو بھیجنا ہوگا۔ ووٹر فہرست میں نام نہ ہونے سے شہریت خود بخود ختم نہیں ہوتی۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ووٹر فہرست سے نام ہٹائے گئے لوگوں کو پی ڈی ایس، انپورنا یوجنا اور دیگر سرکاری اسکیموں کے فوائد سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 25 اگست کو ہوگی۔ آج عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس باگچی نے کہا کہ شہریت کا تعین کرنا الیکشن کمیشن کا آئینی اختیار نہیں ہے۔ کمیشن کا اختیار صرف ووٹر فہرست کے کنٹرول اور نگرانی تک محدود ہے، اس لیے قانونی صورت حال میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ کے سامنے عرضی گزار کی جانب سے سینئر وکیل گوپال شنکرنارائن نے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ 19 اپیلیٹ ٹریبونلز کے کام کرنے کے طریقے سے عملی سطح پر عدم مطابقت اور تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ ٹریبونلز کے کام کاج میں رکاوٹیں ہیں اور اس سے معاملات کے نمٹارے پر اثر پڑ رہا ہے۔ اس سے قبل بدھ کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد جن لوگوں کے نام ووٹر فہرست سے ہٹا دیے گئے تھے، وہ اب بھی کچھ فلاحی فوائد، جیسے سبسیڈی والا راشن حاصل کرنے کے حقدار ہوں گے۔ تاہم، عدالت نے عرضی گزار کا راشن کارڈ معطل کیے جانے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ معطلی مغربی بنگال کے محکمۂ خوراک و رسد کی جانب سے جون میں جاری کیے گئے ایک حکم کے بعد کی گئی تھی۔ عدالت نے انہیں راحت کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ جانے کی ہدایت دی۔









