بھوپال 12جون: وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے دور میں پولیس فورس کو نئے چیلنجوںسے نمٹنے کے لیے ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے تاکہ انتظامی نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ جرائم کی تفتیش کی ذمہ داری نبھانے والے تفتیشی افسران کو تفتیشی الاؤنس بھی ملے، اس نظریہ سے دیگر ریاستوں میں نافذ نظاموں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس شعبہ میں جائے وقوعہ پر فوری رسائی، سکیورٹی انتظامات، شواہد جمع کرنا، ملزمان، گواہوں اور متاثرین کی نقل و حمل، خوراک وغیرہ کے ساتھ فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی، ڈیجیٹل شواہد جمع کرنااور عدالتی کارروائی سے متعلق اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے مدھیہ پردیش میں تفتیشی الاؤنس نافذ کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے میٹنگ میں ہدایت دی کہ پوری ریاست میں قانون و بندوبست کی صورتحال مضبوط رہے، اس کے لیے سینئر افسران سے لے کر کانسٹیبل سطح تک تمام اہلکار چوکس اور فعال کردار ادا کریں۔
وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے منترالیہ میں محکمہ داخلہ کے جائزہ میں کہاکہ سائبر جرائم میں اضافے کے پیش نظر محکمہ داخلہ کے ذریعہ آئی ٹی کنسلٹنٹس کی خدمات لینے کا م ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے۔ میٹنگ میں سنہستھ2028 کے لیے مجماع بندوبست قانون اور نظم ونسق ، وی آئی پی سکیورٹی، ٹریفک مینجمنٹ اور آفات بندوبست کے مقصد سے پولیس فورس کی دستیابی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہاکہ سنہستھ کے تناظر میں مختلف کنٹرول رومز اور دیگر انتظامات کو اس انداز میں مکمل کیا جائے کہ ان کی مستقل اہمیت اور افادیت برقرار رہے۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اجین میں واقع متعدد بابا مہاکال مندر سمیت دیو استھان ہیں ، تمام انتظامات کو عارضی کے بجائے مستقل بنیادی ڈھانچے کی شکل میں ترقی دی جائے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بسنت پنچمی اور حالیہ بھوج شالا معاملے میں پولیس کی مستعد اور مؤثر خدمات پر سینئر افسران اور فورس کے دیگر ارکان کو مبارکباد بھی دی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس کی جانب سے کیے جا رہے نئے اقدامات قابلِ ستائش ہیں۔ ریاست کو نکسل ازم سے پاک بنانے، آفات کے رضاکاروں کی تربیت، سڑک حادثات میں کمی لانے ،دیگر محکمات کے تعاون سے آسان ٹرانسپورٹ کی فراہمی، فائر بریگیڈ کو تعاون، ایئر ایمبولینس کے استعمال میں مدد اور سابق فوجیوں کی فلاح کے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔اس کے ساتھ ہی کھلے مقامات پر گوشت فروخت کرنے پر پابندی اور تیز آواز اسپیکروں کے استعمال کو کنٹرول کرنے کی ہدایات کا بھی مسلسل عمل درآمد جاری رکھا گیا ہے ۔
یہ انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے محکمہ سرگرم رہے۔ اسی طرح انسدادِ دہشت گردی گروپ کی ساخت اور افرادی قوت میں اضافہ، ریاست سطحی جدید تربیتی ادارے کے ذریعہ اے ٹی ایس، ایس ٹی ایف، ہاک فورس اور دیگر خصوصی یونٹس کی استعداد بڑھانے، ضلع سطح پرسین آف کرائم موبائل یونٹس کے نفاذ کی گنجائش ، وی وی آئی پی ڈیوٹی پر تعینات افسران و اہلکاروں کو خصوصی الاؤنس دینے اور اے آئی کا استعمال کرکے سیف گارڈ ایم پی سسٹم کے ذریعہ بزرگوں، کمزور افراد اور خواتین کی حفاظت کے لیے ملک میں ایک نئی طرز کی پہل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔









