بھوپال: 22مئی:آج نماز جمعہ سے قبل موتی مسجد بھوپال میں قاضی شہر حضرت مولانا سید مشتاق علی ندوی مدظلہٗ نے عید الاضحی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور روحانی زندگی کی مکمل رہنمائی کرتا ہے، اسلام کی عظیم عبادات میں سے ایک اہم عبادت قربانی بھی ہے، قربانی صرف ایک جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ بندہ مؤمن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت، وفاداری، اطاعت اور تقویٰ کا عملی اظہار ہے۔
عید الاضحی کا دن ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، یہ دن انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز اہم نہیں، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے‘‘ (سورۃ الحج: 37)۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ قربانی کا اصل مقصد دلوں میں تقویٰ اور اخلاص پیدا کرنا ہے۔قربانی عربی لفظ ’’قرب‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ’’قریب ہونا‘‘۔ شریعت کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے مخصوص دنوں میں مخصوص جانور ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے، اسلام میں ہر عبادت انسان کو اللہ کے قریب کرنے کیلئے ہے، اسی لئے قربانی کو بھی عبادت قرار دیا گیا، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: پس آپ اپنے رب کیلئے نماز پڑھیں اور قربانی کریں‘‘ (سورۃ الکوثر: 2) اس آیت میں نماز اور قربانی دونوں کو عبادت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، قربانی دراصل انسان کے ایمان کا امتحان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات کو قربان کرتا ہے یا نہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا ارادہ کیا، یہ تاریخ انسانیت کا عظیم ترین امتحان تھا، قرآن مجید میں حضرت اسماعیل کا جواب نقل کیا گیا ہے: ’’ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے وہ کر گزریئے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے‘‘ (سورۃ الصافات: 102)، یہ آیت اطاعت، صبر اور رضا کی اعلیٰ مثال ہے، قربانی انسان کو سکھاتی ہے کہ اللہ کی رضا کو مقدم رکھو، خواہشات کو قربان کرو، دوسروں کیلئے جینا سیکھو، ایثار اور ہمدردی اپنائو، اگر قربانی کے بعد بھی انسان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو اس عبادت کی روح حاصل نہیں ہوتی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی اطاعتِ الٰہی کا عظیم نمونہ ہے، جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے فوراً حکم مان لیا، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’جب دونوں نے حکم مان لیا اور ابراہیم نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا‘‘ (سورۃ الصافات: 103) یہ واقعہ رہتی دنیا تک ایمان اور اطاعت کی مثال بن گیا، حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی صبر اور رضا کا عظیم نمونہ پیش کیا، آج ہمیں بھی اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو مقدم کرنا چاہئے۔
قاضی شہر نے فرمایا کہ ہر عبادت کی قبولیت اخلاص پر موقوف ہے، اگر قربانی صرف دکھاوے، شہرت یا مقابلے کیلئے ہو تو اس وہ بے سود ہے، آج بعض لوگ قربانی کو نمائش کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال جانتے ہیں، اصل قربانی وہ ہے جو خالص اللہ کیلئے ہو، سنت کے مطابق ہو، عاجزی کے ساتھ ہو، تقویٰ کے جذبے سے ہو۔ قاضی شہر نے فرمایا کہ قربانی ہمیں زندگی گزارنے کا ایک مکمل سبق دیتی ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ قربانی اخلاص کے ساتھ کریں، سنت کے مطابق کریں، غریبوں کا خیال رکھیں، دکھاوے سے بچیں، تقویٰ اختیار کریں، اللہ کے احکام پر عمل کریں معاشرے میں محبت پھیلائیں۔
قاضی شہر نے سلسلہ ٔ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ قربانی ہر اْس عاقل ، بالغ ، مقیم، مسلمان، مرد اور عورت پر واجب ہے جو عید الاضحی کے ایام میں نصاب کا مالک ہے، یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر رقم اس کی ملکیت میں موجود ہو، اس کی ملکیت میں استعمال سے زائد اتنا سامان ہے، جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، یا رہائش کے مکان سے زائد مکان یا جائیداد وغیرہ ہو، یا مالِ تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے نیز قربانی واجب ہونے کیلئے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں، ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے مالک ہو جائے تو اس پر قربانی واجب ہے ۔ واضح رہے کہ اگر ایک گھر میں متعدد صاحبِ نصاب لوگ پائے جاتے ہوں تو سب پر علیحدہ علیحدہ قربانی کرنا واجب ہے اور ایسی صورت میں از روئے شرع ایک ہی قربانی سارے گھر والوں کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔
آخر میں قاضی شہر نے فرمایا کہ نظم و ضبط اور نظافت و نفاست کو اسلام پسند کرتا ہے ،مسلمان اسے اختیار کریں اور قربانی کے دوران صفائی کا بہت خیال رلکھیں ،جانوروں کے فضلات اور ناقابل استعمال حصے بھوپال نگر نگم کی طرف سے رکھے گئے کنٹینر میں ہی ڈالیں،جس جگہ جانور قربان کریں وہاں سے خون کو پانی بہاکر صاف کردیں،جانور قربان کرتے ہوئے شور شرابہ قطعی نہ کریں،یاد رکھیں قربانی ایک عبادت ہے اور عبادت کو بجالانے کے دوران شور شرابہ کا تصور بھی محال ہے ۔رسول رحمت ﷺ نے عیدین کی نمازیں مسجد نبوی کو چھوڑ کر عید گاہ میں ادا کی ہیں ،اور جو عمل ہمارے رسول کی طرف سے ثابت ہو اس پر عمل کرنا ہمارے لئے تقاضائے ایمان اور زیادہ ثواب کا موجب ہے ، بعض لوگ عذر پیش کرتے ہیں کہ عیدگاہ دور ہے جب کہ مسجد قریب ہے اور عمر بھی زیادہ ہے ، عیدگاہ جانے سے معذوری ہے ،ایسے لوگوں سے کہنا چاہوں گا کہ ہادہ کائنات ﷺ عیدین کی نماز کیلئے اس وقت عیدگاہ تشریف لے جاتے تھے جب آپ کی عمر مبارک 54-55کی تھی ، کوئی اس عمر میں جوان نہیں ہوتا ،ہمیں سنت رسول پر عمل کرنے میں معمولی عذر کو راہ نہیں دینی چاہئے ۔ایک بات یہاں ذکر کرتا چلوں کہ کسی صاحب نے بتایا کہ بھوپال میں کچھ ایسے بھی افراد ہیں جو نماز عید الاضحی سے قبل ہی قربانی کرتے ہیں ،میں ایسے لوگوں کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ نماز سے قبل کی گئی قربانی ادا ہی نہیں ہوگی ،ایسے شخص کو دوبارہ قربانی کرنی ہوگی،اچھی طرح سمجھ لیں رسالت مآب ﷺ نے اپنی پوری حیات طیبہ میں کبھی بھی نماز سے قبل قربانی نہیں کی ۔
عید گاہ میں نماز عید الاضحی ان شاء اللہ صبح 6.30 (ساڑھے چھ بجے) ادا کی جائے گی ۔اہل ایمان اس دن اپنے جملہ معمولات پر نماز عید کی تیاری کو مقدم رکھیں اور کوشش کریں کہ 6بجے تک عید گاہ میں حاضر ہوجائیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں دین مبین کے ہر ہر حکم پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔