بھوپال:22؍مئی:مدھیہ پردیش میں ملازمین اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ESIC) کے تحت رجسٹرڈ مزدوروں اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو کیش لیس آیوش علاج کی سہولت دی جائے گی۔ یہ مزدوروں کی صحت و فلاح کے لیے ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ منترالیہ میں وزیرپنچایت و دیہی ترقیات اور محنت مسٹر پرہلاد سنگھ پٹیل اور وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، تکنیکی تعلیم و آیوش مسٹر اندر سنگھ پرمار کی باوقار موجودگی میں محکمہ محنت اور محکمہ آیوش کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط اور تبادلہ کیا گیا۔ اس ایم او یو پر محکمہ آیوش کی جانب سے کمشنر ڈاکٹر سنجے مشر اور محکمہ محنت (ESIC) کی جانب سے ڈائریکٹر ڈاکٹر سی۔ ایس۔ جائسوال نے دستخط کیے۔ اس موقع پر محکمہ آیوش کے پرنسپل سیکریٹری مسٹر شوبھت جین اور محکمہ محنت کے سیکریٹری مسٹر رگھوراج ایم آر سمیت دونوں محکموں کے سینئر افسران موجود تھے۔
وزیر مسٹر پٹیل نے کہا کہ مزدوروں کو اعلیٰ معیار کی صحت خدمات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اور یہ پہل ہندوستانی طریقہ علاج کو عوام میں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ 21 جون کو “بین الاقوامی یومِ یوگا” کے موقع پر ریاست کے مزدور اجتماعی طور پر یوگا کریں گے اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کا پیغام دیں گے۔
وزیر مسٹر پرمار نے ہندوستانی طریقہ علاج کو اعتماد کے ساتھ عوام تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ایم او یو کے تحت ہونے والی سرگرمیوں کا ہر سال جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق سہولیات میں توسیع بھی کی جائے گی۔ اس موقع پر تمام ریاستی باشندوں، خصوصاً مزدور طبقے میں یوگا اور سورج نمسکار کے ذریعے صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے کے لیے محکمہ محنت کی جانب سے محکمہ آیوش کے تعاون سے تیار کردہ ایک خصوصی “لوگو” کی بھی رونمائی کی گئی۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد ملازمین اسٹیٹ انشورنس اسکیم کے فائدہ اٹھانے والوں کو ریاست کے سرکاری آیوش اداروں، جیسے میڈیکل کالجوں، ضلعی اسپتالوں، ایلوپیتھک اسپتالوں میں قائم آیوش وِنگز اور دواخانوں کے ذریعے جامع، آسان اور مکمل طور پر کیش لیس طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت رجسٹرڈ ملازمین اور ان کے زیرِ کفالت افراد کو آیوروید، ہومیوپیتھی اور یونانی طریق علاج پر مبنی متبادل علاج کے مختلف اختیارات حاصل ہوں گے۔
اس منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا، جس کے پہلے مرحلے میں اسے ریاست کے 9 سرکاری آیوش میڈیکل کالجوں میں شروع کیا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں محکموں کی باہمی رضامندی سے اسے ضلعی سطح کے آیوش اسپتالوں، آیوش وِنگز اور ڈسپنسریوں تک وسیع کیا جائے گا۔ اس پہل سے ایک طرف دور دراز اور دیہی علاقوں تک آیوش صحت خدمات کی رسائی بڑھے گی، تو دوسری طرف ایلوپیتھک صحت اداروں پر مریضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ بھی کم ہوگا۔ایم او یو کی دفعات کے مطابق، محکمہ محنت کے تحت ESIC میں رجسٹرڈ مزدور اور ان کے زیرِ کفالت خاندان کے افراد، جیسے شریکِ حیات، زیرِ کفالت والدین اور اہل اولاد، اس منصوبے سے فائدہ حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔
فائدہ اٹھانے والوں کی اہلیت کی تصدیق ای-شناختی کارڈ، بیمہ نمبر یا دیگر درست ذرائع سے کی جائے گی۔
ان اداروں میں اہل مریضوں کو ڈاکٹروں کی جانب سے مفت او پی ڈی مشورہ فراہم کیا جائے گا، ساتھ ہی ضروری آیوش ادویات بھی مفت دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ادارے میں دستیاب سہولیات کے مطابق پنچ کرم اور دیگر طبی طریقہ? علاج، یوگا اور طرزِ زندگی سے متعلق مشورے، نیز ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، گٹھیا اور موٹاپے جیسے دائمی امراض کا جامع علاج بھی فراہم کیا جائے گا۔
اس پورے نظام میں مالی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے علاج کے لیے CGHS یا ریاستی حکومت کی مقررہ شرحیں نافذ کی جائیں گی، اور آن لائن کلیم پروسیسنگ نظام کے ذریعے بروقت ادائیگی کی جائے گی۔