حیدرآباد24جون:آندھرا پردیش نے معدنیات کے شعبے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کرنول ضلع کے جونّاگیری علاقے میں 405 کروڑ روپے کے سونے کی کان کنی اور پروسیسنگ منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو نے بدھ کے روز اس منصوبے کا افتتاح کیا، جس کے ساتھ ہی ریاست میں تجارتی پیمانے پر سونے کی پیداوار کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر منصوبے کے دوسرے مرحلے کا سنگ بنیاد بھی رکھا، جسے جیو میسور سروسز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ اور ڈیکن گولڈ مائنز لمیٹڈ مشترکہ طور پر ترقی دے رہے ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ منصوبہ آندھرا پردیش کی کان کنی کی صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا اور اس سے صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ریاستی حکومت نے اس منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 1,500 ایکڑ اراضی مختص کی ہے۔ پہلے مرحلے میں 600 ایکڑ رقبے پر کان کنی کا کام شروع کیا گیا ہے جبکہ باقی علاقے میں آئندہ مراحل میں توسیع کی جائے گی۔ منصوبے کے تخمینوں کے مطابق پہلے سال تقریباً 400 کلوگرام سونے کی پیداوار متوقع ہے۔ دوسرے سال سے سالانہ پیداوار 900 کلوگرام تک پہنچنے کی امید ہے، جبکہ مستقبل میں اس منصوبے کی صلاحیت کو بڑھا کر دو ٹن سالانہ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔