اردو محض ایک زبان نہیں، ایک تہذیب، ایک تاریخ اور ایک مشترکہ ورثہ ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے صدیوں سے دلوں کو جوڑا، مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان محبت اور ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ عدالتوں سے لے کر بازاروں تک، شاعری سے لے کر سیاست تک—ہر میدان میں اردو نے اپنی مٹھاس اور اثر سے ایک منفرد شناخت قائم کی۔ مگر افسوس کہ آج یہی زبان اپنے ہی ماننے والوں کی بے توجہی کا شکار ہے۔
اردو دنیا کی اہم اور بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ مختلف عالمی لسانی جائزوں کے مطابق اردو دنیا کی نویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے، جسے کروڑوں لوگ بولتے، سمجھتے اور لکھتے ہیں۔ اردو نہ صرف برصغیر کی تہذیبی شناخت ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی ایک منفرد پہچان موجود ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مختلف پلیٹ فارمز اور عالمی اداروں میں اردو میں مواد فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ دنیا کی متعدد یونیورسٹیوں میں اردو کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے۔ اردو کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی شائستگی، مٹھاس، وسعتِ اظہار اور مختلف زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب، ادب، محبت اور مشترکہ ثقافت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔اکثر شکایت ہوتی ہے کہ اردو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، تعلیمی اداروں میں اس کی جگہ کم ہوتی جا رہی ہے، سرکاری دفاتر میں اس کا استعمال محدود ہو گیا ہے۔ یہ سب باتیں کسی حد تک درست بھی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم خود اپنی زبان کے تئیں سنجیدہ ہیں؟ کیا ہم نے اپنی روزمرہ زندگی میں اردو کو وہ مقام دیا ہے جس کی وہ مستحق ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ اردو کا زوال باہر سے کم، اندر سے زیادہ ہے۔ ہم نے خود ہی اپنی زبان کو گھروں، اسکولوں اور معاشرتی رویوں میں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ نئی نسل کو اردو سکھانے میں ہم نے سنجیدگی نہیں دکھائی، اور جہاں موقع ملا، ہم نے سہولت یا مصلحت کے تحت دوسری زبانوں کو ترجیح دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اردو آہستہ آہستہ ہماری عملی زندگی سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ اردو کے فروغ کو مقامی زبانوں کے فروغ کے ساتھ جوڑا جائے۔ بھارت کی تہذیبی خوبصورتی اس کی زبانوں کے رنگوں میں پوشیدہ ہے، اس لیے ہر علاقے میں اردو کے ساتھ وہاں کی مقامی زبان کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے، جیسے بنگال میں اردو کے ساتھ بنگالی، تمل ناڈو میں اردو کے ساتھ تمل، بہار اور مشرقی اترپردیش میں اردو کے ساتھ بھوجپوری، مہاراشٹر میں مراٹھی اور کشمیر میں کشمیری زبان کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف مختلف زبانوں کے درمیان محبت اور ہم آہنگی بڑھے گی بلکہ یہ زبانیں ایک دوسرے کے سہارے ترقی بھی کریں گی۔ اردو ہمیشہ سے میل جول، اشتراک اور تہذیبی یکجہتی کی زبان رہی ہے، اس لیے وہ دوسری زبانوں کے ساتھ مل کر معاشرے کو مزید مضبوط اور ثقافتی طور پر مالا مال بنا سکتی ہے۔
یہاں ایک نہایت اہم اور غور طلب پہلو مردم شماری کا ہے، جس پر عموماً توجہ نہیں دی جاتی۔ مردم شماری میں زبان کا خانہ محض ایک رسمی خانہ نہیں بلکہ ہماری شناخت کا آئینہ ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی مادری زبان درج کراتے ہیں تو دراصل ہم اپنی تہذیبی پہچان کو سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بڑی تعداد میں وہ لوگ جو روزمرہ میں اردو بولتے اور سمجھتے ہیں، مردم شماری کے وقت اپنی مادری زبان کے خانے میں اردو کے بجائے کوئی اور زبان درج کرا دیتے ہیں۔ یہ عمل غیر محسوس طور پر اردو کے اعداد و شمار کو کمزور کرتا ہے اور مستقبل میں اس کے تعلیمی، سماجی اور سرکاری حقوق پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
مردم شماری کے تعلق سے سماجی اور تعلیمی سطح پر بیداری مہم چلانے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگ زبان کے خانے کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اردو بولنے والے افراد لاعلمی، جلد بازی یا سماجی دباؤ کے تحت اپنی مادری زبان کے خانے میں اردو درج نہیں کراتے، جس سے اردو بولنے والوں کی اصل تعداد سرکاری ریکارڈ میں کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مختلف سماجی تنظیمیں، تعلیمی ادارے، دانشور، ائمہ مساجد اور اردو سے وابستہ افراد عوام میں یہ شعور پیدا کریں کہ مردم شماری میں اپنی مادری زبان کے طور پر اردو ہی درج کرائیں۔ یہ عمل کسی دوسری زبان کے خلاف نہیں بلکہ اپنی شناخت، اپنے ثقافتی ورثے اور آئینی حقوق کے تحفظ کی ایک مہذب اور جمہوری کوشش ہے۔اگر ہم واقعی اردو سے محبت کرتے ہیں تو اس محبت کا تقاضا صرف تقریروں، مشاعروں یا سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ جہاں بھی اپنی شناخت درج کرانے کا موقع ملے—خصوصاً مردم شماری جیسے مواقع پر—ہمیں شعور اور دیانت داری کے ساتھ اپنی زبان کو تسلیم کرنا چاہیے۔ یہ کوئی سیاسی یا متنازع عمل نہیں، بلکہ ایک تہذیبی ذمہ داری ہے۔
اردو کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے گھروں سے آغاز کریں۔ اپنے بچوں کو اردو پڑھنے اور لکھنے کی ترغیب دیں، اور اپنی روزمرہ زندگی میں اس زبان کو زندہ رکھیں۔ تعلیمی اداروں میں اردو کی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے کوششیں کی جائیں، اور سماجی سطح پر اردو کو عزت و وقار کے ساتھ اپنایا جائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ زبان کا تعلق صرف ماضی سے نہیں، مستقبل سے بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی زبان کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں اسے صرف کتابوں میں تلاش کریں گی۔ اردو کو زندہ رکھنے کے لیے ہمیں عملی قدم اٹھانے ہوں گے، محض جذباتی بیانات کافی نہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ آج اردو کو اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ کسی ایک ادارے یا حکومت کی وجہ سے نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم اپنی روش بدل لیں، اپنی ذمہ داری کو سمجھ لیں اور چھوٹے چھوٹے عملی اقدامات شروع کر دیں، تو اردو نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ دوبارہ اپنے عروج کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ یہ وقت شکایت کا نہیں، خود احتسابی کا ہے اور یہی خود احتسابی اردو کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔









